طبیعیات کا نوبیل انعام مادے پر تحقیق کرنے والوں کے نام

نوبیل انعام تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption (دائیں سے بائیں) مائیکل کوسٹرلِٹز، ڈنکن ہالڈین اور ڈیوڈ تھاؤلیس

طبیعیات کے میدان میں سنہ 2016 کا نوبیل انعام برطانیہ میں پیدا ہونے والے تین سائنس دانوں کو دیا گیا ہے جنھوں نے مادے کی عجیب وغریب شکلیں دریافت کی تھیں۔

انعام کی کل رقم 80 لاکھ کرونر (سات لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ) ہے جو ڈیوڈ تھاؤلیس، ڈنکن ہالڈین اور مائیکل کوسٹرلِٹز میں تقیسم ہو گی۔

اس بات کا اعلان منگل کو سویڈن میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا، جس کے بعد مذکورہ تینوں سائنس دان نوبیل انعام یافتہ ماہرینِ طبیعیات کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ طبعیات کے میدان میں اس انعام کا آغاز سنہ 1901 میں ہوا تھا۔

نوبیل انعام کا فیصلہ کرنے والی نوبیل کمیٹی کا کہنا تھا کہ تینوں سائنس دانوں نے ’ایک ایسی دنیا کے دروازے کھول دیے ہیں جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔‘

یاد رہے کہ جب کسی مادہ کو انتہائی شدید حالات سے گزارا جائے، مثلاً اسے بےحد ٹھنڈا کر دیا جائے یا بالکل پچکا دیا جائے تو اس کے ایٹموں کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔

مادے کا یہ رویہ ایک لحاظ سے اسی رویے کی تائید کرتا ہے جس کے تحت کوئی بھی مادہ چیز ٹھوس سے مائع اور مائع سے گیس کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے ایٹموں کے درمیان فاصلہ بڑھنے کے علاوہ دیگر تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

نوبیل کمیٹی کا کہنا تھا کہ تینوں ماہرین طبیعیات کی دریافتیں دیگر سائنس دانوں کو مختلف نئی اشیا یا میٹریل بنانے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

کام پرانا مگر استعمال نئے

نوبیل انعام ملنے کی خبر پر مسٹر ہالڈین کا کہنا تھا کہ 'مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی اور میں بہت ممنون ہوں۔'

مادے کی ساخت پر تحقیق کے سلسلے میں 'میں نے یہ کام بہت عرصہ پہلے کیا تھا، لیکن میری اس تحقیق کی بنیاد پر کئی زبردست دریافتیں کچھ ہی عرصہ پہلے منظر عام پر آئی ہیں۔ ان دریافتوں نے میری تحقیق کو مزید آگے بڑھایا ہے۔'

نوبیل انعام کے حقدار قرار دیے جانے والے تینوں سائنس دانوں نے مادے کی ساخت میں غیر معمولی تبدیلی کے مطالعے کے لیے سُپر کنڈکٹرز، سُپر فُلوئڈز، اور نہایت باریک مقناطیسی سطحوں پر تحقیق کی تھی۔

نوبیل کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین، پروفیسر نِلس مارتنسن

طبیعیات کے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین، پروفیسر نِلس مارتنسن کا کہنا تھا کہ 'آج کے دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی، مثلاً کمپیوٹرز، کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم ان میں استعمال ہونے والے مادے یا میٹیریئل کی خصوصیات کو کس قدر کنٹرول کر سکتے ہیں۔'

'ان تینوں ماہرین کے کام نے نئی اقسام کے عجیب و غریب میٹیریئل بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ہم بہت پرامید ہیں کہ ان سائنس دانوں کی تحقیق مستقبل کی کئی ٹیکنالوجیز میں اہم کردار ادا کرے گی۔'

اگرچہ ڈیوڈ تھاؤلیس، ڈنکن ہالڈین اور مائیکل کوسٹرلِٹز کی پیدائش برطانیہ کی ہے لیکن اب یہ تینوں سائنس دان امریکہ میں مقیم ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں