سام سنگ نے ڈیجیٹل معاونت کے سافٹ ویئر ویو کو خرید لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سام سنگ کوشاں ہے کہ وہ فون، ٹیلی ویژن اور دیگر ڈیوائسز میں ’ویو‘ کا استعمال کرے

سام سنگ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کی جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے ڈیجیٹل معاونت کے سافٹ ویئر ’ویو‘ کو خرید لیا ہے جسے ایپل کا سافٹ ویئر ’سری’ بنانے والے ڈیگ کٹلاؤس نے ہی بنایا ہے۔

٭ زکربرگ نجی کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت بنائیں گے

٭ کیا مشینیں ہم پر غالب آ جائیں گی؟

سام سنگ نے ویو لیبز کو ایک ایسے وقت میں حاصل کیا ہے جب چند ہی روز قبل گوگل نے اپنے نئے پکسل فون کی لانچنگ کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس فون میں بھی مصنوعی ذہانت کے معاون سسٹم پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایمازون اور مائیکروسافٹ بھی انسانوں کی طرح ردِعمل ظاہر کرنے والے کمپیوٹرز بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

کمپنی کوشاں ہے کہ وہ اپنے فون، ٹیلی ویژن اور دیگر ڈیوائسز میں ویو کا استعمال کرے۔

اپنے تحریری بیان میں سام سنگ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے صارفین کو حقیقی معاونت فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے ور یہ کمپنی کے وسیع وژن کا بھی حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی تمام مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کا حامل سسٹم لاگو کرنا چاہتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اب صارفین ٹیکنالوجی سے رابطے کی خواہش رکھتے ہیں جو کہ ایسا تجربہ ہوتا ہے جو ان کے روزمرہ معمولات سے جڑا ہوتا ہے۔

ویو لیبز کے چیف ایگزیکٹیو دوگ کیٹالوس کہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی کا مشن بے روح اشیا میں زندگی لانا ہے۔

دوگ کیٹالوس نے ہی سنہ 2010 میں ایپل کا سافٹ ویئر سری تیار کیا تھا۔ سنہ 2012 میں انھوں نے ویو کی تیاری کے آغاز سے قبل ایپل کو چھوڑ دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جو ایپس سے آگے ہوگا آپ اپنی مرضی کی چیز حاصل کر سکیں گے اس سے قطع نظر کہ آپ کہاں ہیں یا کس ڈیوائس کے قریب ہیں۔‘

گوگل کے سمارٹ فون میں آواز کو متحرک کرنے والے سپیکرز ایپل کے سافٹ ویئر سری سے ایک قدم آگے ہیں جو کہ بات چیت کر سکتے ہیں۔ اس میں گفتگو کے دوران ایک سوال اور دوسرے سوال میں مطابقت ہوتی ہے۔

اسی طرح ایمازون کا ایکو سپیکر سوالات کے جوابات دے سکتا ہے، انٹرنیٹ سے جڑی ڈیوائسز کو کنٹرول کر سکتا ہے اور شاپنگ کی لسٹیں بنا سکتا ہے اور اس دوسری سوسز جیسا کہ اوبر یا بی بی سی نیوز ہیں ان سے بھی جوڑ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں