پاکستان میں مشروم کی پیداوار میں ریکارڈ کمی

گچھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گچھی یورپ اور امریکہ میں اعلیٰ قسم کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہے

45 سالہ نوشابہ بی بی خاتون خانہ اور چار بچوں کی ماں، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے سیاحتی مقام گلیات کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔

وہ بچپن ہی سے مشروم کی ایک مقامی قسم گچھی اکٹھا کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے مزدور پیشہ خاوند کی معاشی مدد بھی کرتی تھیں۔ مگر اب کئی سال سے اضافی آمدن سے محروم ہیں۔

نوشابہ کے مطابق 'کچھ سال قبل تک مارچ کے ماہ میں بچوں کے ہمراہ جنگل سے پانچ، چھ کلوگرام گچھی اکٹھی کر لیتی تھی جو اوسطاً 50 ہزار روپے میں فروخت ہوتی تھی مگر اب جنگل میں گچھی کم ہو چکی ہے اور دو سے تین کلو سے زیادہ دستیاب نہیں۔ اس سال تو ایک کلو بھی حاصل نہیں کر پائی۔'

سفیر گل 20 سال سے زائد عرصے سے گچھی کے کاروبار سے منسلک ہیں مگر اب انھوں نے یہ کاروبار چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Image caption پہلے گچھی برآمد ہوتی تھی لیکن اب یہ سلسلہ رک گیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ 'چند سال قبل تک گچھی کے کاروبار میں منافع تھا، یورپ اور امریکہ میں اس کی بہت زیادہ طلب ہے۔ مگر مقامی طور گچھی کی دستیابی میں کمی کے سبب اس کے بڑھتے ہوئے نرخ بین الاقوامی مارکیٹ سے بھی تجاوزکر چکے ہیں اور درآمد کے آرڈر نہ ملنے کی وجہ سے خرید و فروخت رک چکی ہے۔

'خریدی گئی گھچی گوداموں میں خراب ہو رہی ہے اور ناقابل نقصاں کرنے کے بعد اب گچھی کا کاروبار کرنے سے توبہ کر لی ہے۔'

پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2015 میں پاکستان گچھی برآمد کرنے میں مکمل ناکام رہا اور یہ ہی صورتحال رواں سال کی بھی ہے اور گذشتہ چار سالوں میں برآمد کا تناسب ریکارڈ حد تک کم ہوا ہے۔

Image caption گچھی مشروم کی ایک قسم ہے جس انگریزی میں مورل (morel) کہا جاتا ہے

اس صورتحال سے کئی خاندانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگلات اور پہاڑی علاقوں کے رہنے والے تقریباً 289,000 افراد، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے گچھی جمع کرنے کے کام سے وابستہ ہیں۔ گچھی کی 70 فیصد پیدوار صوبہ صوبہ خیبر پختوںخوا کے ہندو کش و ہمالیہ رینج میں ہے ۔

ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر پاکستان سے تعلق رکھنے والی شبیہ زمان، جن کو ماحولیات کے حوالے سے کام کرنے پر اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے اور وہ خود بھی گچھی جمع کرنیکا کام کئی سال تک کرتی رہی تھیں، اس خد شے کااظہار کررہی ہیں کہ گچھی موسمی تبدیلی کا شکار ہو کر معدوم ہونے کے خطرے کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

شبیہ زمان کا کہنا تھا کہ'سالوں سے میرے مشاہدے میں ہے کہ جب فروری میں برف باری ہو اور مارچ میں مناسب بارشیں ہوں تو گچھی کی پیدوار اچھی ہوتی ہے ۔ مگر کئی سالوں سے برفباری اور بارشیں وقت پر نہیں ہو رہیں، کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوتی ہیں۔ جس وجہ سے گچھی کی پیدوار بھی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔'

محکمہ ماحولیات خیبر پختونخوا کے شعبہ نان ٹمبر فارسٹ پراڈکٹ (این ٹی ایف پی) سوات کے ڈیویلپمنٹ آفسیر نور رحمان کے مطابق دس سال پہلے تک گچھی کی اوسط پیداوار ایک لاکھ 20 ہزار کلو تھی جس کا 70 فیصد در آمد ہو جاتا تھا ۔ مگر اب پیدوار 50 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ جس کی بڑی وجہ موسمی تبدیلیاں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گچھی کو مختلف قسم کے خطرات نے معدومی کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں سب سے بڑا خطرہ موسمی تبدیلی، انسانی آبادیوں کا جنگلات تک پھیل جانا، جنگلات کا کم ہونا، زراعت کے لیے مختلف ادوایات کا غیر محفوظ استعمال اور مقامی لوگوں کے اندر اسے اکٹھا کرنے اور محفوظ رکھنے کا شعور اور طریقے سے آگاہی نہ ہونا شامل ہے۔

Image caption جنگلات کی کٹائی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے گچھی کی پیداوار کم ہو گئی ہے

مقامی روایات کے مطابق کہ گچھی کو جادوئی فصل سمجھا جاتا ہے جس کا تقدیر اور قسمت سے تعلق جوڑا جاتا ہے۔

شبیہ زمان کا کہنا تھا کہ'گچھی کی دستیابی کو خوش قسمتی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے جس کو زیادہ گچھی ملتی ہوتی ہے اس کو زیادہ خوش قسمت سمجھا جاتا ہے ۔ مگر اب ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے علاقوں سے خوش قسمتی روٹھتی جارہی ہے۔'

ماہرین کے مطابق گچھی، کھمبی (مشروم) کی سب سے زیادہ قیمتی اور پسند کی جانے والی نوع ے۔ گچھی پاکستان، انڈیا، چین اور نیپال کے ہندو کش ہمالیہ رینج میں بھی پائی جاتی ہے۔ بہترین غذائیت اور وٹامن رکھنے کی وجہ سے قدیم ترین دور ہی سے یہ پسندیدہ غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کا لذیذ اور غذائیت سے بھرپور سوپ یورپ اورامریکہ میں بہت شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔