دنیا کی 9 ناکام ترین مصنوعات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوٹ 7 میں یہ شکایت پائی گئی تھی کہ چارجنگ کے دوران اس کی بیٹری پھٹ جاتی ہے

جنوبی کوریا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے جدید ترین سماٹ فون 'گیلکسی نوٹ سیون'کی پروڈکشن مستقل طور پر بند کر دی ہے۔

سام سنگ نے یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے ان شکایات کے بعد کیا کہ گیلکسی نوٹ سیون کا استعمال محفوظ نہیں کیونکہ اس فون کو آگ لگ جاتی ہے۔

لیکن سام سنگ کو اس فیصلے پر زیادہ آگ نہیں لگنی چاہیے کیونکہ ان سے پہلے کئی بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

یہاں ہم ایسی ہی 9 کپمنیوں کا احوال بیان کرتے ہیں جن کی مصنوعات نے ان کے ہاتھ جلا دیے تھے۔

فیس بُک ہوم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر آپ موبائل فون کی سٹارٹ سکرین کو زیادہ سے زیادہ جاذبِ نظر بنانے کی بات کریں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ فیس بُک نے 'فیس بُک ہوم' کے نام سے جو چیز متعارف کرائی تھی وہ اس میدان میں ایک بڑا قدم تھی۔

اپریل سننہ 2013 میں جب فیس بُک نے اسے لانچ کیا تھا تو اینڈرائڈ فونز کا 'ریپر' آپ کی فیس بُک فیڈ کو پلک جھپکتے ہی آپ کے سامنے لے آتا تھا۔ اس اختراع کو صارفین کی خوب پذیرائی ملی تھی۔ یہاں تک کہ پہلے دو ہفتوں میں ہی اسے پانچ لاکھ سے زیادہ صارفین نے ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ اس ایپ کے بعد صارفین کا فیس بُک ڈیٹا مخفی نہ رہا اور فون کی بیٹری بھی جلد ختم ہونا شروع ہو گئی۔ چانچہ جلد ہی فیس بُک نے اپنے وسائل دوسری جانب منتقل کر دیے اور فیس بُک ہوم کو ختم کر دیا۔

گوگل لائیولی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جولائی 2008 میں گوگل نے ایک نئی تھری ڈی ایپ متعارف کرائی جس میں صارفین خود اپنی ورچوئل دنیا تخلیق کر سکتے تھے اور اس کے ذریعے اپنے دیگر آن لائن دوستوں سے رابطہ کر سکتے تھے۔

گوگل نے یہ سوفٹ ویئر مفت فراہم کیا تھا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ لائیولی سے بننے والی ورچوئل دنیا اتنی چھوٹی ہوتی تھی کہ اس میں صارفین کے آن لائن مواد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ صارفین نے گوگل لائیولی کو اس بری طرح رد کیا کہ گوگل کو ایک ماہ بعد ہی اسے واپس لینا پڑ گیا۔

نئی کوک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر آپ کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز ہو جس کے ہر کوئی گن گاتا ہو، تو صاف ظاہر ہے آپ اپنی اس پراڈکٹ کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑخانی نہیں کریں گے۔

لیکن کوکا کولا جیسی بڑی کپمنی کو یہ بات سمجھ نہ آئی اور سنہ 1985 میں انھوں نے پیپسی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے دیرینہ اور مقبول مشروب میں رد وبدل کی ٹھان لی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے 'نیو کوک' کو بری طرح مسترد کر دیا اور کپمنی کو بہت جلد ہی اپنی دیرنہ اور مقبول کوک کو دوبارہ 'کوک کلاسک' کے نام سے مارکیٹ میں لانا پڑ گیا۔

کاسمو پولیٹن یوگرٹ

اپنے اچھوتے سوال و جواب اور جنسی مشوروں کے لیے مشہور رسالے 'کاسموپولیٹن' کو ایک مرتبہ دہی بنانے کی سوجھی اور انھوں نے 'کاسموپولیٹن یوگرٹ' کے نام سے اپنا ایک نیا دہی متعارف کرا دیا۔

جی ہاں دہی۔

ہونا کیا تھا، ان کے اس خیال کا جلد ہی دہی بن گیا۔

ہارلے ڈیوڈ سن کلون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہارلے کا نام سنتے ہی آپ کی آنکھوں کے سامنے کھلی کھلی سڑکوں پر فراٹے بھرتی نہایت خوبصورت موٹر سائیکل اور آزادی کا تصور ہی آتا ہے۔

کیا آپ کے ذہن میں کسی خوشبو یا کلون کا خیال بھی آتا ہے؟

آپ کے ذہن میں کلون کا خیال آئے نہ آئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مشہور عالم موٹر سائیک ساز کمپنی سنہ 2000 میں ایک، دو نہیں بلکہ کئی عطر مارکیٹ میں لے آئی تھی۔

ہونا کیا تھا، ہارے ڈیوڈ کو ابھی تک ان دنوں کی یاد سے مچھلی کی سڑاند جیسی بدبو آ رہی ہے۔

مائیکروسوفٹ زُون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زون کا ڈیزائن اتنا برا تھا کہ ہر'کُول' صارف نے اسے متسرد کر دیا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے لیے نہ صرف موسیقی سے لطف اندوز ہونے کا بہترین ذریعہ ہمارے موبائل فون ہوا کرتے تھے، بلکہ ہر طرف آئی پیڈ کا ہی نام چل رہا تھا۔

ایپل کا مقابلہ کرنے کے لیے مائیکروسوفٹ سنہ 2006 میں 'زُون' کے نام سے ایک پراڈکٹ لایا جس کے لیے دعوے تو بہت کیے گئے، لیکن زون کا ڈیزائن اتنا برا تھا کہ ہر'کُول' صارف نے اسے متسرد کر دیا۔

بِک انڈرویئر

مشہور کمپنی 'بِک' نے اپنا نام بال پوائنٹ، ریزر اور سگریٹ لائیٹرز بنا کر بنایا تھا۔

لیکن پھر یہ ہوا کہ کپمنی کے کسی ابھرتے ہوئے ستارے کو یہ سوجھی کہ کمپنی ایسے جانگھیے بھی بنانا شروع کر دیے جو اس کے ریزروں کی طرح ڈسپوزل ہوں۔

لیکن بِک کے یہ انڈرویئر پانی میں کوئی آگ نہ لگا سکے اور بہت جلد ہی مارکیٹ سے ان کی چھٹی ہو گئی۔

فورڈ ایڈسل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کاریں بنانے بانے والی مشہور کمپنی فورڈ نہ سنہ 1957 میں 'فورڈ ایڈسل' کے نام سے جو کار متعارف کرائی وہ مارکیٹ میں اتنی بری طرح پِٹی کہ اب ناکام مصنوعات کا دوسرا نام 'فورڈ ایڈسل' پڑ چکا ہے۔

جب سنہ 1957 میں فورڈ اپنی یہ مہنگی کار لیکر بازار میں آئی تو اس وقت دنیا مالی بحران کا شکار تھی جس کی وجہ سے یہ کار زیادہ نہ بِکی، لیکن بحران ختم ہونے کے بعد بھی فورڈ کو یہ کار مہنگی پڑی اور تمام تر کوششوں کے باوجود کمپنی ایک لاکھ سے زیادہ کاریں نہ فروخت کر سکی۔

کالگیٹ کے کھانے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ کالگیٹ کی وجۂ شہرت ان کی توٹھ پیسٹ ہے۔

ایک مرتبہ کالگیٹ کو بھی اپنے کاروبار کو فروغ دینے کی سوجھی اور اس نے منجمد کھانوں (فروزن فُوڈ) کے کاروبار میں چھلانگ لگانے کی ٹھان لی۔

صاف ظاہر ہے کہ صارفین پریشان ہو گئے کہ وہ کالگیٹ کا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں یا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے پہلے کھانے بھی کالگیٹ کے ہی کھائیں۔

ہونا کیا تھا، کالگیٹ کے کھانے فریزر میں ہی پڑے رہ گئے۔

اسی بارے میں