زمین پر ممالیہ میں اضافے کی وجہ دمدار ستارہ

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر ممالیہ میں اضافے کی ایک وجہ شاید 55 ملین سال پہلے دم دار ستارے کا اس سے ٹکرانا ہے۔

سائنسی جریدے ’جنرل سائنس‘ میں امریکی ماہرین نے اس حوالے سے نئے ثبوت دیے ہیں۔

٭ مریخ جیسے حالات زمین پر

ماہرین کا کہنا ہے کہ عصر جدید کے آغاز میں ممالیہ کے گروہوں کا زمین پر پھیلاؤ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت میں اضافے کا سبب ہو سکتا ہے۔

سائنس دانوں کو تحقیق کے دوران گول شکل کے گلاس کے ٹکڑے ملے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فضا میں پگھلے ہوئے مادے کے ٹھوس ہونے کی وجہ سے بنے۔

تاہم دیگر ماہرین اس ٹیم سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلا میں ہونے والے اثرات کے زمین پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر چھ کروڑ ساٹھ لاکھ سال قبل ڈائناسور کا دنیا سے خاتمہ ایک سیارچے جو میسکیکو کے جزیرانما یوکیتان سے ٹکرایا تھا کی وجہ سے ہوا۔

اس تحقیق میں شامل رٹگرز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈینس کینٹ کا خیال ہے کہ نیو جرسی کے ساحلی علاقے کی تہہ سے ملنے والا موٹا شیشہ وہ 10 کلومیٹر چوڑا دم دار سیارچہ ہے جو بحرِ اوقیانوس میں آکر ٹکرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption درجہ حرارت کے بڑھنے کے ساتھ ہی ممالیہ گروہ دنیا کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئے

ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ کاربن ڈائی آکسائنڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہو سکتا ہے جنھوں نے ہمارے سیارے کو 55.6 ملین سال پہلے بہت تیزی سے گرم کرنا شروع کر دیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس عمل کے دوران عالمی درجہ حرارت ایک ہزار سال سے بھی کم عرصے کے دوران چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا۔

پروفیسر کنٹ کا کہنا ہے ’یہ بہت تیزی سے گرم ہوئی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کی وجہ کیا بنی۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کے بڑھنے کے ساتھ ہی ممالیہ دنیا کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ اور اب اس کے تین مختلف قسم کے گروہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔

خیال رہے کہ ممالیہ کے ارتقا میں تیزی سے ہونے والے اس تنوع یا تبدیلی کو مکمل طور پر اب بھی نہیں سمجھا جا سکا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں