ماحولیاتی تبدیلی: گرین ہاؤس گیسیں محدود کرنے کا عالمی معاہدہ طے پا گیا

Image caption معاہدے کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے پہلے کیمیکلز کے استعمال کو کم کریں گے

زمین کے ماحول کے تحفظ کے لیے دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک نے ہائیڈروفلورو کاربن یعنی گرین ہاؤس گیسوں کو محدود کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسیں ہیں جو فریزرز، ایئرکنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہیں۔

٭ ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

٭ پیرس کانفرنس میں عالمی ماحولیاتی معاہدہ طے پا گیا

روانڈا میں ہونے والے اجلاس میں طے پانے والے اس نئے معاہدے کو ’تاریخی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس معاہدے میں شریک ممالک نے مونٹریال پروٹوکول میں ایک مشکل ترمیم پر بھی اتفاق کیا جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے پہلے ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کو کم کریں گے۔

ان ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ 2019 سے اس پر عمل درآمد شروع کریں۔

لیکن بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جتنی توقعات ہیں اس قدر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

سہ رخی معاہدہ

امریکی وزیرِ خارجہ نے اس معاہدے کو بڑا قدم قرار دیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف انفرادی سطح پر ممالک کی ضروریات کے بارے میں ہے بلکہ اس سے ہمیں یہ بھی موقع ملا ہے کہ ہم کرہ ارض کی حدت نصف ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کریں۔

Image caption ائیر کنڈیشنرز میں بھی ایچ ایف سی گیسز استعمال ہوتی ہیں تاہم شرکا کو گرمی سے بچانے کے لیے کانفرنس میں ائیر کنڈیشنرز کا استعمال کیا گیا

اس نئے معاہدے کے تحت مختلف ممالک کے لیے تین الگ الگ طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔

معاشی طور پر مضبوط ممالک جیسے کہ یورپی ممالک،امریکہ اور دیگر سے کہا گیا ہے کہ وہ ایچ ایف سی گیسوں کے استعمال کو چند سالوں کے اندر کم ازکم 10 فیصد کم کر دیں۔

چین، لاطینی امریکہ اور جزیرہ نما ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سنہ 2024 تک ایچ ایف سی گیسوں کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین ایچ ایف سی گیسوں کو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے

دیگر ترقی پذیر ممالک جن میں انڈیا، پاکستان، ایران، عراق اور خلیجی ممالک شامل ہیں کو سنہ 2028 تک ان گیسوں کا استعمال ترک کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ چین ایچ ایف سی گیسوں کو استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ وہ سنہ 2029 میں اپنی پیداوار میں کمی کرے گا۔

جبکہ انڈیا کچھ تاخیر سے 2032 میں 10 فیصد کمی سے ساتھ ان گیسوں کے استعمال کو کم کرے گا۔

اگر اس معاہدے پر صحیح معنوں میں عمل کیا جارتا ہے تو عالمی حدت میں بڑی حد تک کمی ہوگی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس معاہدے پر عمل سے سنہ 2050 تک کُرہ ارض کے ماحول میں موجود 70 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کی جا سکے گی۔

گذشتہ برس دسمبر میں پیرس میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس میں تقریباً دو ہفتے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد ماحولیات کا حتمی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت 2050 تک دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری تک محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں