سر سے جڑے دو بھائی آپریشن سے علیحدہ علیحدہ

جڑواں بھائي جارڈن اور انیاس میک ڈونلڈ تصویر کے کاپی رائٹ GOFUNDME
Image caption سوا سال کے جارڈن اور انیاس میک ڈونلڈ کو عیلحدہ کرنے کے لیے 16 گھنٹے سرجری کی گئی

نیویارک میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے سر سے جڑے ہوئے دو جڑواں بھائیوں کو آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا ہے۔

13 ماہ کے جارڈن اور انیاس میکڈونلڈ کو عیلحدہ کرنے کے لیے 16 گھنٹے پر مشتمل سرجری کی گئی اور اب ان کی کھوپڑی تیار کرنے کے لیے مزید طبی اقدام کیے جا رہے ہیں۔

جمعے کی صبح بچوں کی والدہ نکول میکڈونلڈ نے فیس بک پر لکھا کہ وہ 'پرجوش' ہیں لیکن اس کے ساتھ انھیں 'مستقبل کی غیر یقینی صورتحال پر دکھ بھی ہے۔'

اس کے بعد انھوں نے ہسپتال کے بستر پر جارڈن کی تنہا تصویر بھی پوسٹ کی۔

انھوں نے اپنے بیٹے کو 'ہیپی برتھ ڈے' لکھتے ہو‏ئے لکھا: 'جب کمرے کو درست کیا گیا تو میں نے پوچھا کہ دو بستروں کی کیا ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے کہ ابھی تک میں انھیں دو علیحدہ بچے تسلیم نہیں کر سکی ہوں۔'

اس سے قبل کے ایک پوسٹ میں نکول نے لکھا: 'یہاں بیٹھ کر یہ سب لکھنا غیر فطری لگ رہا ہے۔ مجھے بہت خوش ہونا چاہیے کہ دو علیحدہ بچے ہوں گے تاہم مجھے مستقبل کی غیر یقینی پر درد ہو رہا ہے۔'

یہ بچے خون کی مشترکہ نالیوں اور دماغ کے مشترکہ خلیوں کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا ایک کروڑ میں ایک ہی جیسا شاذ و نادر معاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption آپریشن کے بعد ایک بچے کی تصویر

ڈاکٹر جیمز گڈرچ جو پہلے بھی اس طرح کا آپریشن کر چکے ہیں اور رواں سال انھوں نے دو شامی بچوں کو علیحدہ کیا تھا انھوں نے جڑے ہوئے سروں کی تھری ڈی امیج تیار کرکے اس آپریشن کی تیاری کی تھی۔

سی این این کے سنجے گپتا جو اس آپریشن کو دیکھ رہے تھے ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملے میں اگر بچوں کو دو سال کی عمر سے قبل علیحدہ نہیں کیا گیا تو 80 فی صد بچوں کے بچنے کی امید نہیں ہوتی ہے۔

میکڈونلڈ خاندان نے اس آپریشن کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی رقم اکٹھا کی ہے اور شکاگو سے نیویارک منتقل ہو گئے ہیں تاکہ ہسپتال سے نزدیک رہ سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں