بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کی ویڈیو ہٹانے پر فیس بک کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ CANCERFONDEN
Image caption اس ویڈیو میں خواتین کو اینیمیشن کی شکل میں پیش کیا گيا ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے چھاتی کے سرطان سے متعلق بیداری کے لیے ایک اشتہاری ویڈیو کو ہٹانے پر معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا غلطی سے ہوا۔

اس ویڈیو کو سویڈین کے ایک گروپ 'کینسر فاؤنڈین' نامی ادارے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کیا گيا تھا۔

اس ویڈیو میں خاکوں کے ذریعے خواتین کے جسم کو دکھایا گیا ہے۔ ان کی چھاتیوں کو گلابی رنگ کے دائرے کی شکل میں دکھاتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان میں پڑنے والی گانٹھ یا سوزن کا کیسے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

لیکن سوشل میڈیا ویب سائٹ کی جانب سے اس ویڈیو کو دل آزاری والا خیال کر کے اسے ہٹا دیا گیا تھا۔

فیس بک کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ سوڈین کی جانب سے سرطان سے متعلق ویڈیو کو منظوری دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'ہمیں بہت افسوس ہے، ہماری ٹیم ہر ہفتے لاکھوں اشتہاری تصاویر پر کام کرتی ہے، اور بعض معاملات میں ہم غلطی سے اشتہار کو ممنوع قرار دے دیتے ہیں۔'

یہ ویڈیو ہماری اشتہار سے متعلق پالیسیوں کے خلاف نہیں ہے۔ ہم اپنی غلطی پر معذرت کرتے ہیں اور ہم نے اشتہار دینے والے کو بتا دیا ہے کہ ہم ان کے اشتہار کو منظور کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ CANCERFONDEN
Image caption کینسر فاؤنڈین کا کہنا تھا کہ اس نے اس کا حل اس طرح سے نکالا ہے کہ چھاتیوں کے گلابی دائروں کو چوکور کر دیا گیا ہے

فیصلہ بدلنے سے پہلے کینسر فاؤنڈین نے فیس بک کو ایک کھلا خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ اس مہم کا مطلب کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔

اس میں مزيد کہا گيا تھا کہ اس نے اس کا حل اس طرح سے نکالا ہے کہ چھاتیوں کےگلابی دائروں کو چوکور کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ بھی فیس بک نے جب 'ناپلم گرل' کے نام سے معروف تصویر یہ کہہ کر ہٹائی تھی کہ اس سے عریانیت کا اظہار ہوتا ہے تو اس پر بھی کافی واویلا مچا تھا۔

بعد میں سائٹ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا اور مشہور تصویر کی اشاعت کی اجازت دے دی تھی۔

ناپلم گرل کے نام سے معروف تصویر میں ویتنام جنگ کے دوران ناپلم بم کے حملے کے بعد بری طرح سے جھلس جانے والی ایک لڑکی کو وہاں سے بھاگتنے کی کوش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

فیس بک پر ایسی بھی کئی تصویروں کو ہٹانے کے الزام لگ رہے ہیں جس میں ماں اپنے بچے کو چھاتی سے دودھ پلارہی ہوں۔

اطلاعات کے مطابق اسی طرح کی بعض دوسری تصویریں، بشمول میموگرام کے اور ٹیکنیشیئن کے جانب سے چھاتی کے سرطان سے بچ جانے والی خواتین کی چھاتیوں پر ٹیٹو بنائے جانے کی ویڈیوز وغیرہ کو بھی فیس بک نے اپنی سائٹ سے ہٹایا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں

بی بی سی سے