’انسان کا انتقام،برفانی چیتوں کی تعداد میں کمی کی وجہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ David Lawson
Image caption گذشتہ کچھ عرصے کے دوران انسان اور جنگی حیات میں لڑائی کی وجہ سے کئی برفانی چیتے مارے گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق براعظم ایشیا کے پہاڑی علاقوں میں سینکڑوں برفانی چیتے غیر قانونی شکاریوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔

آبادی سے دور اور اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے والا سفید برفانی چیتا کوہ ہمالیہ اور تبت کے علاقوں کے 12 ممالک میں پایا جاتا ہے۔

ان ممالک میں چین، بھوٹان،نیپال، انڈیا، پاکستان، منگولیا، کرغزستان، تاجکستان اور روس شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس نسل کے چیتوں کی تعداد اب محض چار ہزار رہ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں اوسطاً چار چیتے مارے جاتے ہیں اور ان میں زیادہ تر کی ہلاکت مقامی شہریوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جو اپنے مال و اسباب کے نقصان کے بعد انتقامی کارروائی کرتے ہوئے انھیں ہلاک کر دیتے ہیں۔

رپورٹ میں برفانی چیتوں کی کھالوں کی غیر قانونی خریدو فروخت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ برفانی چیتے عموماً ایک ہزار سے 5400 میٹر کی بلندی پر انتہائی سرد موسم میں رہتے ہیں اور ان کے گھنے بال انھیں سردی سے بچاتے ہیں۔

اپنی خوراک کے لیے برفانی چیتے مویشی اور بھیڑ بکریوں کا شکار کرتے ہیں جس کے وجہ سے مقامی کسان اُن سے پریشان اور خوف زدہ رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2008 کے بعد سے ہر سال 450 سے 221 برفانی چیتے شکاریوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

رپورٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ برفانی چیتوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس شکار کی وجہ انسان اور جنگی حیات کی لڑائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Roller Ma Ming
Image caption برفانی چیتوں کی اون، کھال ، جبڑے اور دانت آن لائن فروخت کیے جاتے ہیں

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برفانی چیتوں کا 90 فیصد شکار چین، منگولیا، پاکستان، انڈیا اور تاجکستان میں ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 21 فیصد برفانی چیتوں کا شکار غیر قانونی تجارت کی وجہ سے ہوتا ہے تاکہ اس کی کھال، ہڈیوں اور دانتوں کو مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے۔

برفانی چیتوں کی تعداد میں کمی کی ایک اور باعثِ تشویش وجہ انٹرنیٹ پر اس کے کھال کی فروخت ہے۔

'برفانی چیتوں کی اون، کھال ، جبڑے اور دانت آن لائن فروخت کیے جاتے ہیں اور ان کی تشہیر طبی خصوصیات بیان کر کے کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو کہ انسانوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے برفانی چیتوں کی نسل معدوم ہو رہی ہے لیکن ان کی بقا کے لیے بعض کامیاب اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

کرغزستان میں حکومت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد نے کسانوں کو شکار کرنے کی رعایت دیتے ہوئے اُس علاقے کو جنگلی حیات کی افزائش کی جگہ بنا دیا ہے۔

تصاویری شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ آئی بیکس کی تعداد بڑھنے سے اُن علاقوں میں برفانی چیتوں بڑی تعداد واپس آئی ہے۔

اسی بارے میں