زیکا پر قابو پانے کے لیے برازیل اور کمبوڈیا میں کروڑوں مچھر چھوڑے جائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ SINCLAIR STAMMERS/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے ایک کیڑا مچھروں میں ڈالا جا سکتا ہے

سائنسدان ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت برازیل اور کمبوڈیا کے علاقوں میں ایسے کروڑوں مچھر چھوڑے جائیں گے جن پر خصوصی کیمیائی عمل کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس انوکھی حکمت عملی کا مقصد مچھر کے کاٹے سے ہونے والے زیکا اور چیکنگنیا جیسے امراض کے خلاف ایک 'انقلابی تحفظ' فراہم کرنا ہے۔

مچھروں کی جو فوج برازیل اور کمبوڈیا میں چھوڑی جائے گی اسے خاص طور پر 'وولباچیا' نامی بیکٹیریا سے انفیکشن کرائی گئی ہے تاکہ ان مچھروں کی انسانوں کو زیکا وائرس منتقل کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے۔

اس منصوبے پر ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے اور یہ رقم بین الاقوامی امدادی اداروں کی ایک ٹیم فراہم کر رہی ہے جس میں مائیکروسوفٹ کے مالک اور ان کے اہلیہ کی تنظیم 'بِل اینڈ میلنلڈا گیٹس فاؤنڈیشن' بھی شامل ہے۔

'مچھروں کی ویکسینیشن'

خیال ہے کہ یہ سکیم سنہ 2017 کے اوائل میں شروع ہو جائے گی اور لاطینی امریکہ، امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں بھی اس کے لیے رقوم فراہم کریں گی۔

وولباچیا نامی کیڑا قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے جس سے دنیا بھر میں 60 فیصد حشرات اور کیڑے مکوڑے متاثر ہوتے ہیں، لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیکٹریا انسانوں کو متاثر نہیں کرتا۔

عام طور پر یہ کیڑا مچھروں کی اس قسم کو بھی متاثر نہیں کرتا جو انسانوں میں زیکا، ڈینگی بخار اور چیکنگنیا جیسے امراض کا سبب بنتا ہے۔ لیکن گزشتہ دس سالوں میں ڈینگی بخار پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے یہ کیڑا مچھروں میں ڈالا جا سکتا ہے۔

ان سائنسدانوں کا کہنا ہے انھوں نے برازیل، کولمبیا، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور ویتنام میں چھوٹے پیمانے پر تجربات کیے ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ جب بیکٹیریا سے متاثر مچھروں کو چھوڑا جاتا ہے تو اس سے انسانوں میں ڈینگی بخار کے پھیلاؤ میں کمی آ جاتی ہے۔

لیبارٹری میں کیے جانے والے کچھ دیگر تجربات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان مچھروں میں زیکا اور چیکنگنیا کے امراض پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔