بچے والدین پر پابندی لگا سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

شکاگو سے شنگھائی تک والدین اپنے بچوں کی تصاویر بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر شائع کر رہے ہیں جو کہ ان کے لیے باعث فخر ہے۔

اس سے فرق تو شاید کوئی نہیں پڑتا لیکن ماضی میں بچوں کو اس قسم کی سہولت میسر نہیں تھی کہ ان کے بچپن کی یادوں کو اس طرح سے عوامی سطح پر لایا جائے۔

’نومی نیٹ‘ نامی ایک کمپنی کے سروے کے مطابق برطانیہ میں والدین اپنے بچوں کی پانچویں سالگرہ تک اوسطاً ان کی 1498 تصاویر شائع کرتے ہیں۔

یہ بات شاید والدین کے لیے انوکھی ہو لیکن ان بچوں کا کیا جو اس حوالے سے کوئی انتخاب نہیں کر سکتے تھے کیونکہ جب ان کے والدین تصویریں شائع کر رہے تھے تو بچے اپنی رائے نہیں دے سکتے تھے۔

جن والدین نے سوشل میڈیا کے آغاز کے دنوں میں اپنے بچپن کی تصاویر آن لائن پوسٹ کی تھیں وہ اب جوان ہو چکے ہیں۔

نیو کاسل کی 16 سالہ لوسی، کا جن کے والدین ان کی تصاویر تب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے تھے جب وہ سات سال کی تھیں، کہنا ہے کہ ’میں جب 12 یا 13 سال کی تھی تو میں نے دیکھا کہ (فیس پک پر) بعض ایسی چیزیں تھیں جو میرے خیال میں میری لیے خجالت کا باعث تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

لوسی کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے والد سے ان تصاویر کو ہٹانے کے لیے کہا اور انھوں نے خوشی سے ہٹا دیں لیکن انھیں سمجھ نہیں آئی کہ میں ایسا کیوں محسوس کر رہی ہوں۔ اگر مجھ سے اس وقت پوچھا جاتا کہ ان تصاویر کو شائع کیا جائے تاکہ سب ان کو دیکھ سکیں تو ممکن ہے میرا جواب نہ میں ہوتا۔‘

اسی طرح مشرقی لندن سے 20 سالہ ڈینا ہرلے کا کہنا ہے کہ ’وہ لوگ جو اپنے بچپن میں اس سے خوش تھے اب کم ہی مطمئن ہوں گے۔ میں جب 11 سال کی تھی تو میں اپنے والدین کی جانب سے فیس پک پر اپنی تصاویر پوسٹ کرنے پر خوش تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت یہ بڑا زبردست لگتا تھا، مجھے اوروں کی توجہ حاصل کرنا پسند تھا۔ پر اب جب آپ ماضی میں جھانکتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ تصاویر سب کے لیے تھیں تو کافی عجیب لگتا ہے۔‘

ڈینا ہرلے نے خود کو اپنی ہی بچپن کی تصاویر سے ڈی ٹیگ کر دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تصاویر ان کی پروفائل پر نہیں دکھائی دیں گی، لیکن یہ تمام تصاویر ویب سائٹ پر موجود رہیں گی۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر آرتھر کیسیڈی جو کہ سوشل میڈیا کے بھی ماہر ہیں کا کہنا ہے کہ والدین کو شاید محسوس نہ ہو، لیکن اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز آن لائن شائع کرنے سے وہ اپنے ہی بچوں کی ایسی شناخت بنا رہے ہوتے ہیں جسے شاید ان کے بچے پسند نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا والدین کو اپنے بچوں کی شناخت پر کنٹرول کا حق حاصل ہے؟ والدین کے خیال میں یہ بچے ان کے ہیں اور وہ ان کی شناخت کے مالک ہیں۔ تاہم بچوں کے خیال میں وہ اپنی آن لائن شناخت کو تبدیل کر سکتے ہیں یا اس پر کنٹرول رکھتے ہیں۔‘

اس کی بہتر مثال لوسی ہیں۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا کہ وہ ’انھیں اس تمام مواد سے ڈی ٹیگ کر دیں جو ان کی بہتر نمائندگی نہیں کرتا۔‘

لوسی نے بتایا کہ ’یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور نہ ہی کوئی بری بات تھی، صرف وہ مواد ہے جو میں نہیں چاہتی کہ لوگ دیکھیں۔ ان میں وہ تصاویر تھیں جو میرے والد نے چھ یا سات سال کی عمر میں پوسٹ کیں تھیں۔ اس وقت میں کافی خاموش اور شرمیلی تھی۔ میرے زیادہ دوست بھی نہیں تھے۔‘

بعض والدین کے لیے محفوظ راستہ یہی ہے کہ سوشل میڈیا سے دور رہا جائے۔

نیوکاسل کی کسیا کرووسکا حاملہ ہیں اور آئندہ مارچ میں ماں بننے والی ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر اس بات پر متفق ہیں کہ وہ تب ہی سوشل میڈیا پر کچھ شائع کریں گے جب ان کا بچہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

تاہم کسیا کرووسکا کو اس حوالے سے دو مسائل کا سامنا ہے۔ ’ایک یہ کہ اس پابندی کو دیگر افراد پر لاگو نہیں کیا جا سکے گا۔ جیسا کہ بچے کی پھوپھی تصاویر لینا چاہیں تو اس کے لیے ہمیں پولیس بننا ہوگا، اور کہنا ہوگا کے مہربانی کریں اور ان تصاویر کو فیس بک پر نہ پوسٹ کریں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں