حمل ضائع ہونے سے ’پی ٹی ایس ڈی‘ کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ NICOLE MARTIN
Image caption نکول کو کئی بار سقط حمل کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھیں گہرا صدمہ ہوا جس سے وہ اب بھی لڑ رہکی ہںں

لندن میں امپیریئل کالج کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جن خواتین کا حمل ضائع ہوا ان میں اعصابی تناؤ کا شکار ہونے کا خطرہ پایا گیا ہے۔

حمل کے ضیاع سے متعلق کلینک میں ایسی تقریباً ایک تہائی خواتین میں ’پی ٹی ایس ڈی‘ یعنی پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر کی علامات پائی گئی ہیں۔

نکول مارٹن کو ایک سال میں تین بار اسقاط حمل کی شکایت ہوئی جسے وہ تاریک دنوں سے تعبیر کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ چونکہ آپ کے ہاں ایک بار بچہ پیدا ہو چکا ہے اس لیے اب حمل آسان ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کئی لحاظ سے پہلے بچے کی پیدائش نہ ہونے کے بہ نسبت یہ آسان ہے لیکن میں تو اپنے ایک بچے ہی کی خاطر ایک دوسرا بچہ چاہتی تھی۔'

نکول اور ان کے شوہر بین نے اپنی پہلی بچّی ایوا کے ایک برس کے مکمل ہونے کے بعد ہی دوسرے بچے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں 38 برس کی تھی اور اچھی طرح سے یہ جانتی تھی کہ زیادہ عمر میں بچے کی پیدائش کے تعلق سے کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حمل ٹھہرنے میں امید سے زیادہ وقت لگ گیا، اور جب حمل ٹھہر گیا تو میں یہ سوچ کر تشویش میں مبتلا ہوگئی کہ میرے سبھی دوست کم سے کم ایک بار اسقاط حمل کا شکار ہو چکے تھے۔'

نکول جڑواں بچوں کی امید سے تھیں لیکن دونوں ہی، ایک پانچ اور دوسرا سات ہفتوں کے بعد، رحمِ مادر میں ہی ختم ہوگئے۔

اسقاط حمل کے بعد علاج کے لیے عام بےہوش کرنے والی دوا کے ذریعے ان کا آپریشن کیا گيا۔ اس صدمے کے باوجود بھی بین اور نکول دوسرے بچے کے لیے کوشش کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NICOLE MARTIN
Image caption نکول کہتی ہیں کہ گرچہ اب ان کے خوبصورت بچے ہیں، لیکن پھر بھی آج تک اسے بھلا نہیں پائی ہیں کہ یہ سب ختم ہوچکا ہے

دو ماہ بعد انھیں پھر حمل ٹھہر گیا لیکن سات ہفتے بعد ہی وہ حمل بھی ضائع ہوگیا اور اس کی صفائی کے لیے انھیں دوائیں استعمال کرنی پڑیں۔

وہ کہتی ہیں یہ کوئی خوشگوار بات نہیں کہ آپ اپنے ہی بچے کو دوا کے ذریعے ٹوائلٹ میں فلش کر دیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہے۔

تین ماہ بعد ان کا حمل پھر گر گيا جس سے وہ بری طرح اعصابی تناؤ کا شکار ہوگئیں۔

نکول بتاتی ہیں کہ 'جہاں کہیں میں جاتی دوسری مائیں مجھ سے یہی سوال پوچھتیں کہ دوسرا بچہ کب ہوگا؟'

وہ کہتی ہیں کہ اب میں مایوس ہوچکی تھی۔ انھوں بتایا کہ اس کے لیے انھوں نے طبی ماہر سے صلاح و مشورہ کیا جو یہ کھل کر کہہ سکے کہ اب کوششیں چھوڑ دو اور اس طرح وہ مایوس ہوکر چپ بیثھ گئیں۔

اور پھر جب نکول 40 برس کی ہوئیں تو انھیں پھر سے ان کے بیٹے جوزف کا حمل ٹھرا، جو اب تقریبا دو برس کا ہے۔

لیکن انھیں جو صدمہ پہنچا تھا اس سے وہ اب بھی ابھر نہیں پائی ہیں اور انھیں اس کے علاج کے لیے تھیراپی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'اگرچہ اب میرے دو خوبصورت بچے ہیں، لیکن پھر بھی آج تک میں اسے بھلا نہیں پائی کہ یہ سب ختم ہوچکا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام تک پہنچنا ایک جدوجہد سے کم نہیں اور لگتا ہے کہ کوئی شے ہماری پیاری سی زندگی کو خراب کر دےگی۔'

لندن کے امپیریئل کالج میں ڈاکٹر جیسکا، جنھوں نے کلنک میں اسقاط حمل سے متعلق ایسی تقریباً 90 خواتین پر تحقیق کی ہیں، کہتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی ایس ڈی کا مکمل عارضہ ایسی کچھ ہی خواتین پر ہوتا ہو لیکن اس میں سے بیشتر کو اوسط سے کم درجے کی اس کی شکایت ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خواتین کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے جن میں سے بعض کو تو مدد مل جاتی ہے لیکن اس کے علاج کا کوئی باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر جیسیکا اور ان کی دیگر ساتھی اس پر مزید تحقیق کر رہے ہیں تاکہ ایسے افراد کی بہتر طور پر مدد کی جا سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں