روس کے ساحل پر برف کے قدرتی گولے

سنوبال تصویر کے کاپی رائٹ SERGEI BYCHENKOV
Image caption نائیدا گاؤں کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس طرح کی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی ہے

سائبیریا کے شمال مشرق کی خلیج اوب میں مقامی باشندوں نے ایک عجیب اور دلکش منظر دیکھا جہاں ہزاروں کی تعداد میں قدرتی طور پر بننے والے بڑے بڑے برف کے گولے ساحل پر موجود تھے۔

اٹھارہ کلومیٹر لمبے ساحل پر تاحد نظر برف کے گولے نظر آ رہے تھے اور ان کے قطر ٹینس کی گیند سے لے کے ایک میٹر تک تھے۔

یہ ماحولیات کے نادر نظام کا نتیجہ تھے کیونکہ برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا اور پانی سے چکر کھاتے ہوئے بڑے بڑے سنوبال کی شکل اختیار کر گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EKATERINA CHERNYKH
Image caption لوگوں نے قدرتی سنوبال کے ساتھ اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں

آرکٹک سرکل کے اوپر یامل خطے میں نائیدا گاؤں کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے پہلے ایسی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔

روسی ٹی وی نے اس نادر منظر کے متعلق آرکٹک اور انٹارکٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پریس سیکریٹری سرگیئی لیزنکوف کی تشریح و توضیح کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALEXEI PRIMAK
Image caption ساحل کے کنار دور دور تک برف کے گولوں کے ایسے مناظر نظر آئے ہیں

ان کا کہنا تھا ’پہلے تو ایک بنیادی قدرتی عمل ہے، جس میں سخت سردی کے باعث سمندر میں برف کے ٹکڑے پانی کی سطح پر تیرنے لگتے ہیں۔ پھر اس میں ہوا کے رخ، ساحل کے خد و خال اور درجہ حرارت میں تیزی کے ساتھ شدید کمی کے اثرات کو شامل کرلیں۔ ان تمام عناصر کے ایسے غیر معمولی ملاپ سے یہ خوشنما برف کے گولے بن گئے ہیں۔‘

یورا ویب سائٹ کے مطابق اسی طرح کے منظر دسمبر سنہ 2014 میں خلیج فنلینڈ اور دسمبر 2015 میں لیک مشیگن میں نظر آئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں