جان لیوا سیلفی سے کیسے بچا جائے؟

سیلفی

ہر سال سیلفی لینے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن امریکی محققین کی ایک ٹیم کو امید ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں۔

محققین ایک ایسی ایپ بنا رہے ہیں جو لوگوں کو خطرے سے متنبہ کرے گی۔

اس ٹیم کو تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2104 میں سیلفی لینے کی کوشش میں 15 افراد ہلاک ہوئے، 2015 میں 39 اور رواں سال یعنی 2016 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں یہ تعداد بڑھ کر 73 تک پہنچ گئی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ کہاں زیادہ حادثات پیش آئے ہیں اور جہاں آپ رہائش پذیر ہیں اس سے مرنے کی وجوہات کیسے تبدیل ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

پٹسبرگ میں کارنیج میلون یونیورسٹی میں یہ تحقیق پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیمانک لامبا کی قیادت میں ان کے دوستوں پر مبنی ایک ٹیم نے کی ہے۔

2014 میں سیلفی لیتے ہوئے ہلاکت کے پہلے واقعے کے بعد ہیمانک اور ان کی ٹیم کو معلوم ہوا کہ اب تک دنیا بھر میں ایسے 127 حادثات پیش آ چکے ہیں۔

ان میں سے 76 واقعات انڈیا، نو پاکستان، آٹھ امریکہ اور چھ روس میں پیش آ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

زیادہ تر حادثات کسی بلند مقام پر جا کر سیلفی لینے کی کوشش کرتے ہوئے پیش آئے۔

لوگ سوشل میڈیا پر اپنے فالوورز کو متاثر کرنے کی خاطر پہاڑیوں یا کسی بلند عمارت پر چڑھ کر سیلفی لینے کی کوششیں کرتے ہیں۔

جبکہ انڈیا میں اس قسم کے واقعات زیادہ تر ٹرین حادثات سے جڑے ہوئے ہیں کیونکہ ہیمانک اور ان کی ٹیم کے خیال میں ’ٹرین کی پٹری پر یا اس کے قریب اپنے قریبی دوست کے ساتھ تصویر لینے کو رومانوی اور نہ ختم ہونے والی دوستی کے لیے اشارے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

روس اور امریکہ میں اسلحے کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے ہلاکت کے زیادہ واقعات دیکھے گئے ہیں۔

ہیمانک اور ان کی ٹیم کے خیال میں ان کی جانب سے تیار کی جانے والی ایپ اونچے مقامات، ٹرین کی پٹری اور کسی بھی خطرناک صورتحال سے جس میں سیلفی لینے والے کی جان کو خطرہ ہوا سے خبردار کرے گی۔

ان کی ٹیم نے تین ہزار سیلفیوں پر تجربہ کیا اور ان کا دعوی ہے کہ خطرناک تصاویر کے بارے میں اس ایپ نے 70 فیصد مواقع پر نشاندہی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں