زیکا وائرس اب طبی ایمرجنسی نہیں رہا: عالمی ادارۂ صحت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محض برازیل میں ہی دماغی نظام کی خرابیوں سے متعلق 2100 معاملات سامنے آئے ہیں

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی وبا زیکا وائرس سے نمٹنے کے لیے اب بین الاقوامی طبی ہنگامی صورت حال نہیں رہی۔

نو ماہ سے جاری اس ہنگامی صورت حال کو ختم کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے نے تسلیم کیا کہ زیکا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور یہ وائرس اب بھی موجود ہے۔

* ’زیکا وائرس کے ایشیا میں پھیلنے کا خدشہ‘

* زیکا پر قابو پانے کے لیے مچھروں کی فوج

یہ انفیکشن 30 ممالک کے نومولود بچوں میں شدید بیماری اور نقائص کا باعث بنا ہے۔

ان میں مائکروسیفیلی شامل ہے جس میں بچے چھوٹے سروں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور ان کے دماغ کی نشوونما رک جاتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محض برازیل میں ہی دماغی نظام کی خرابیوں سے متعلق 2100 معاملات سامنے آئے ہیں۔

گو کہ یہ وائرس زیادہ تر مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے تاہم یہ جنسی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

اس وائرس کی وجہ سے کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے تاہم پانچ میں سے ایک ہی شخص میں اس کی علامات ظاہر ہوئیں۔ ان علامات میں بخار، کھجلی اور جوڑوں میں تکلیف شامل ہے۔

اس وائرس سے متعلق ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ڈیون ہیمن کا کہنا تھا ’یہ اب بھی ایک بڑا اور مستقل خطرہ ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او اب اس انفیکشن کے خلاف طویل المدتی طریقہ اپنائے گا۔ یہ وائرس لاطینی امریکہ، کیریبیئن اور اس سے آگے کے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔

وائرس آیاکہاں سے؟

پہلی مرتبہ زیکا وائرس سنہ 1947 میں یوگینڈا کے بندروں میں پایا گیا۔

پہلے انسان میں سامنے آنے والا کیس 1954 میں نائجیریا میں دیکھا گیا جس کے بعد افریقہ، جنوبی افریقہ اور بحرالکاہل کے جزائر میں یہ وائرس پھیلا۔

یہ پھیلاؤ چھوٹے پیمانے پر تھا اور اس سے پہلے اس کی وجہ سے انسانی صحت کو اتنے سنگیں خطرات لاحق نہیں تھے۔

لیکن سنہ 2015 میں برازیل میں اس کے سامنے آنے کے بعد یہ انتہائی تیزی سے پھیل کر ہنگامی صورتِ حال اختیار کر گیا۔

اسی بارے میں