مال ویئر: اے ٹی ایم مشینیں پیسے اگلنے لگیں

اے ٹی ایم مشنیں تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ان واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک میں آرمینیا، بلغاریہ، ایسٹونیا، نیدرلینڈز، پولینڈ، روس، سپین اور برطانیہ شامل ہیں۔

روس کی ایک سائیبر سکیورٹی کمپنی نے کیش مشینوں پر دور سے مربوط حملوں کے بارے میں وارننگ جاری کی ہے۔

آئی بی گروپ کا کہنا ہے کہ ہیکس آف بینکس ایک ایسا مرکزی سسٹم ہے جس کے ذریعے کیش مشینوں سے بیک وقت بغیر چھوئے رقم نکلوائی جا سکتی ہے۔ یہ پروسیس ٹچ لیس جیک پوٹنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

گروپ کے مطابق ان کیش مشینوں کے ساتھ گڑ بڑ نہیں کی جا سکتی لیکن 'منی میول' رقم چوری کرنے اور بھاگنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

ان واقعات سے متاثر ہونے والے ممالک میں آرمینیا، بلغاریہ، ایسٹونیا، نیدرلینڈز، پولینڈ، روس، سپین اور برطانیہ شامل ہیں۔

روس کی سائیبر سکیورٹی کمپنی نے کسی بھی مخصوص بینکوں کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔

کیش مشینیں بنانی والی دو کمپنیوں ڈائی بولڈ نکس ڈارف اور این سی آر کارپوریشن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اس خطرے سے آگاہ ہیں۔

ڈائی بولڈ نکس ڈارف کے سینئیر ڈائریکٹر نکولس بلٹ نے بتایا کہ وہ ایک ہی بار مشینوں کی ایک بڑی تعداد پر حملہ کرنے کے قابل ہونے کی اگلی سطح پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یہ معلوم ہے کہ وہ بہت جلد پکڑے جائیں گے اسی لیے وہ اس طرح طریقے سے کام کر رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ مشینوں سے رقم حاصل کر سکیں۔

یورو پول کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی رپورٹ میں کیش مشینوں سے متعلق متنبہ کیا گیا ہے۔

سائیبر سکیورٹی کے ماہر پروفیسر ایلن وڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ نئے طریقۂ کار کے تحت کسی نہ کسی طرح بینکوں کے مرکزی نظام تک رسائی حاصل کرکے ایک ہی وقت میں زیادہ سے زیادہ اے ٹی ایمز کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ کم سے کم وقت میں رقم چرائی جا سکے۔

اسی بارے میں