انڈیا میں پسماندہ مقامات تک انٹرنیٹ کی رسائی

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایکسپریس وائی فائی کو جلد ہی دوسرے خطوں تک پھیلائے گا

فیس بک نے انڈیا میں پسماندہ مقامات پر انٹرنیٹ کی رسائی لانے کے لیے ایک سکیم کا آغاز کیا ہے۔

ایکسپریس وائی فائی نے اپنے سافٹ ویئر کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو اپنے سروس پروائیڈرز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دینے اور ان کے انٹرنیٹ کنکشن کو فیس کے ساتھ عام افراد تک شیئر کرنے کی آفر کی ہے۔

مودی کا فیس بک دورہ، عوام کے سوالات

’غداری کے قانون سے چھٹکارا پانا ضروری ہے‘

اس کنکشن کے ذریعے صارفین کو خبروں کے علاوہ موسم کی صورتِ حال سمیت مختلف سروسز تک رسائی حاصل ہو گی۔

انڈین نیوز سائٹ میڈیاناما کے مدیر اور پبلشر نکھل پاشوا کا کہنا ہے ' میرے خیال سے یہ ایک اچھا قدم ہے، ہمیں ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے مزید کمپنیوں کی ضرورت ہے۔'

'وہ جب تک صرف مخصوص ویب سائٹس پر یا مخصوص حالات کے تحت رسائی فراہم نہیں کرتے تو یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔'

نکھل پاشوا نے اس سے پہلے فیس بک کی جانب سے ایسے خطوں کو آن لائن کرنے کی کوشش کو نا ممکن قرار دینے اور انٹر نیٹ رسائی کو محدود کرنے کی تجویز پر تنقید کی تھی۔

انھوں نے انڈیا میں ' انٹرنیٹ کو محفوظ' کرنے کی مہم کو منظم کرنے میں بھی مدد دی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت کی ٹیلی کام ریگولیٹری نے گذشتہ برس فروری میں فیس بک کی بنیادی انٹر نیٹ سروس ایپ کو بلاک کر دیا تھا۔

فیس بک کے اس ایپ نے انڈیا میں صرف محدود ویب سائٹس کو رسائی دی تھی۔

فیس بک کی یہ ایپ انٹر نیٹ کی غیر جانبداری کی اصولوں کی مخالف تھی۔ اس کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ڈیٹا پروائیڈرزکو کچھ آن لائن خدمات کی طرفداری نہیں کرنی چاہیے۔

ایکسپریس وائی فائی اپنے ہمسایوں کو معیاری انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کرنے اور ان کی آمدن کو مستحکم بنانے کے لیے مقامی تاجروں کو حق دیتا ہے۔

نکھل پاشوا کا کہنا ہے 'انڈیا میں موبائل کنکٹیو یٹی ہے تاہم اس کی ڈیمانڈ کو کبھی بھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'انڈیا میں انٹر نیٹ سست ہے اور یہاں ہائی سپیڈ نامی کوئی چیز نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا 'انڈیا میں موبائل کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی عام طور پر بہت زیادہ مہنگی ہے اس لیے یہ تجویز معیاری نہیں ہے۔'

دوسری جانب فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایکسپریس وائی فائی کو جلد ہی دوسرے خطوں تک پھیلائے گا۔

اسی بارے میں