2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر سال 30 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں

دنیا کے چار بڑے شہروں کے حکام نے سنہ 2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں اور ٹرک استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان شہروں میں پیرس، میکسیکو، میڈرڈ اور ایتھنز شامل ہیں۔ جہاں کے میئرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی بندش ہوا کی کوالٹی برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔

میئرز کا کہنا ہے کہ وہ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کا متبادل استعمال کرنے والوں کو بدلے میں مراعات دیں گے اور پیدل چلنے اور سائیکل کے استعمال کی ترویج کریں گے۔

یہ فیصلہ میکسیکو میں چاروں شہروں کے میئرز کی ملاقات میں کیا گیا جو دو سال بعد ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر سال 30 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ڈیزل انجن سے دو طرح سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو پرٹیکیولیٹ میٹر اور نائٹروجن گیس فضا میں پیدا ہوتی ہے۔

پرٹیکیولیٹ میٹر پھیپھروں کو متاثر کرتی ہے اور قلبی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح نائٹروجن آکسائیڈ سے اوزون کی تہہ متاثر ہوتی ہے اور لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈرڈ میں اس سے قبل گاڑیوں کے لیے حد رفتار مقرر کی گئی تھی

ماحولیاتی گروہ کوشاں رہے ہیں کہ ہوا کو صاف رکھنے کے لیے درجے مقرر کیے جائیں اور قواعد بنائے جائیں۔

سی 40 میٹنگ کے دوران چار شہروں کے میئرز نے اعلان کیا کہ سنہ 225 تک ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور اس کے لیے وہ الیکٹرک، ہائیڈروجن اور ہائبرڈ گاڑیوں کی صورت میں انعام دیا جائے گا۔

پیرس میں سنہ 1997 سے قبل رجسٹرڈ ہونے والی ڈیزل گاڑیوں کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔

بارسلونا میں عوام کی جانب سے سائیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے فضا میں 9000 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پیدا ہونے سے بچایا گیا ہے جو کہ گاڑی کے ذریعے 21 لاکھ میل تک کا فاصلہ طے کرنے کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں