'زیادہ پانی پینا بھی خطرناک ہو سکتا ہے'

پانی تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption زیادہ پانی پینا بھی خطرناک ہو سکتا ہے

جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو عام طور پر ڈاکٹر آپ کو زیادہ پانی یا سیال پینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ایک 59 سالہ خاتون کے معاملے میں کم وقت میں زیادہ پانی پینا خطرناک ثابت ہوا۔

پیشاب کے ایک انفیکشن سے نجات حاصل کرنے کے چکر میں انھیں ہائیپونیٹرامیا یعنی پانی کا نشہ ہو گیا۔

٭ پہلے پانی پیو

٭ 'پانی صرف پیاس میں پیو'

طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹ میں ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ ایک صحت مند فرد میں ایسا ہونا غیر معمولی عمل ہے۔

تاہم انھوں نے کہا ہے کہ مریضوں کے سیال لینے کے معاملے میں بہتر رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں نے لکھا: 'زیادہ پانی یا سیال لینے کے متعلق تجویز کے متعلق تحقیق بہت کم ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں۔'

طبی ماہرین نے اس معاملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ساتھ بہت زیادہ پانی پینے کی بجائے زیادہ پانی پیتے رہنا اہم ہے لیکن اگر زیادہ پسینہ آ رہا ہو یا بخار ہو تو ڈاکٹروں کو پانی کے بارے ہدایت دینے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

ہائیپونیٹرامیا ایسی حالت ہے جب خون میں سوڈیم کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے یعنی خلیوں میں پانی کو روکنے کی قوت کم ہو جاتی ہے۔

ایسا عام طور پر قوت برداشت والے کھیل اور سرمستی کی دواؤں کے استعمال میں دیکھا گيا ہے۔

مذکورہ مریض کو لندن کے ایک ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گيا۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ پانی پینے کے تھوڑی ہی دیر بعد لڑکھڑانے لگیں، حالت میں ابتری آنے لگی اور زبان لڑکھڑانے لگی یہاں تک کہ انھوں نے کئی بار قے کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption کنگز کالج لندن کے پروفیسر ایمیریٹس ٹام سینڈرز کا کہنا ہے کہ 'مریضوں کے پاس مناسب مقدار میں پانی ہونا چاہیے اور انھیں پانی پینے کی ترغیب دی جانی چاہیے'

مریضہ نے کہا: 'مجھے یاد آتا ہے کہ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور میں پریشان تھی کہ میں اسے روک کیوں نہیں پا رہی ہوں، پھر مجھے احساس ہوا کہ میرا پورا جسم کانپ رہا ہے اور پھر میں گھبرا گئی۔'

انھیں لگا کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے اور وہ اپنے خیالات کا اظہار بھی نہیں کر پا رہی تھیں اور نہ ہی خود پر قابو ہی رکھ پا رہی تھیں۔

جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کے مشورے پر چند گھنٹوں میں کئی لیٹر پانی پی گئی ہیں تو پھر ڈاکٹروں نے آئندہ 24 گھنٹے کے لیے انھیں پانی دینا بند کر دیا اور اب وہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد وہ خود کو کمزور محسوس کرتی رہیں اور پوری طرح معمول پر آنے کے لیے انھیں ایک ہفتے کا وقت لگ گيا۔

ایک دوسرے معاملے میں گیسٹرواینٹرائیٹس کی ایک مریضہ کی زیادہ پانی پینے سے جان چلی گئی تھی۔

ان رپورٹس کے باوجود کنگز کالج لندن کے پروفیسر ایمیریٹس ٹام سینڈرز کا کہنا ہے کہ پانی پینے کا مشورہ غلط نہیں اور 'مریضوں کے پاس مناسب مقدار میں پانی ہونا چاہیے اور انھیں پانی پینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں