جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟

جعلی خبریں تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے مزید کوششیں کریں۔

اس کے بعد سے بعض اداروں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ٹیکنالوجسٹ ڈینیئل سائریڈسکی نے ایک پلگ ان تیار کیا ہے جسے ’بی ایس ڈیٹیکٹر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ فیس بک یا ٹوئٹر پر 'مشتبہ' ویب سائٹوں کے خلاف حرکت میں آ جاتا ہے۔

یہ پلگ اِن درجنوں نیوز فیڈز میں نظر آیا، جس کی وجہ سے بعض لوگ سمجھے کہ شاید اسے فیس بک نے خود تیار کیا ہے۔

تاہم اب فیس بک نے اس کی سائٹ کا لنک بلاک کر دیا ہے۔

بی ایس ڈیٹیکٹر جعلی خبریں دینے والی ویب سائٹوں کی فہرست کی مدد سے انھیں شناخت کر لیتا ہے۔ اسے کروم اور فائرفاکس براؤزر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب بھی کوئی جعلی خبر سامنے آتی ہے تو یہ فوراً سرخ رنگ کی وارننگ لگا دیتا ہے: 'یہ ویب سائٹ مشتبہ سمجھی جاتی ہے۔'

سائریڈسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ پلگ ان ایک گھنٹے میں تیار کر لیا تھا، اور 'اس کا مقصد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے اس دعوے کا جواب دینا تھا کہ فیس بک جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔'

سائریڈسکی کے مطابق اب فیس بک نے اس پلگ ان پر پابندی لگا دی ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر 'غور کر رہی ہے۔'

فیس بک پر اعتراض بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ جعلی خبروں کا سلسلہ روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ اس کے جواب میں مارک زکربرگ نے کہا تھا: 'ہم خود سچائی کے ثالث نہیں بننا چاہتے، اس کی بجائے ہم اپنی کمیونٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔'

جمہوریت کے لیے خطرہ؟

حالیہ امریکی انتخابات کے دوران جعلی خبروں کا معاملہ شدت سے سامنے آیا تھا، اور بعض لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جعلی خبروں کی وجہ سے انتخابات کے نتائج پر اثر پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدارتی انتخابات میں جعلی خبروں نے کس حد تک کردار ادا کیا؟ اس بات پر غور جاری ہے

بزفیڈ نامی ویب سائٹ کے مطابق صدارتی انتخابات کی مہم کے آخری تین ماہ میں فیس بک پر جعلی خبریں نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ہفنگٹن پوسٹ اور این بی سی جیسے معتبر اداروں کی خبروں سے زیادہ پڑھی گئیں۔

'ٹرسٹ پروجیکٹ' نامی ادارے کی بانی سیلی لِیمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: 'فی الحال ہم نہیں جانتے کہ اس سے انتخابات پر کیا اثر پڑا، لیکن جعلی خبر زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے، اور یہ گفتگو کا رخ موڑ سکتی ہے۔ یہ نہ صرف لوگ کو غلط معلومات دیتی ہے بلکہ ایک ایسی چیز پر توجہ منعکس کر دیتی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

'یہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔'

درست عکاسی کا فقدان

لیمن کہتی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کام نہیں ہے کہ وہ جعلی خبروں کی نشاندہی کریں۔ 'میں نہیں چاہتی کہ ہم اعتماد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے گوگل، فیس بک یا ٹوئٹر کو ذمہ داری سونپ دیں۔ یہ کام ہمیں خود کرنا ہو گا۔'

انھوں نے کہا: 'اگر لوگ سمجھیں کہ میڈیا ان کی دنیا کی درست عکاسی نہیں کر رہا تو وہ میڈیا پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔'

ٹرسٹ پروجیکٹ نے حال ہی میں بی سی سی کے ساتھ مل کر لندن میں ایک ایونٹ منعقد کیا جس کا مقصد اخباری اداروں کو اس بات پر مائل کرنا تھا کہ وہ اپنے قارئین میں خود پر اعتماد میں اضافہ کرنے کے طریقے سوچیں۔

مرر گروپ کی ڈیجیٹل ایڈیٹر این گرپر نے کہا: 'یہ فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔ ان کے پاس زبردست طاقت ہے اور لوگ خبروں تک رسائی کے لیے انھی کے پاس آتے ہیں۔ یہ مشکل کام ہے۔'

یہ ایونٹ میں مندرجہ ذیل باتیں سامنے آئیں:

  • مرر گروپ نے ایک ٹول تیار کیا ہے جو یہ شناخت کر سکتا ہے کہ کون سا ادارہ ٹرسٹ پروجیکٹ کی سفارشات پر عمل کرتا ہے اور کون نہیں
  • لا سٹامپا نے ایک ٹول بنایا ہے جو بتا سکتا ہے کہ خبر دینے والے صحافی نے اس سے متعلقہ دوسری کتنی خبریں دی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس صحافی پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے
  • واشنگٹن پوسٹ/بز فیڈ کا ٹول خبروں کے لنک اور ذرائع کا جائزہ لے کر قارئین کو بتا دیتا ہے
  • بی بی سی نیوز لیب نے ایک ایسا طریقہ وضع کیا ہے جس سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ صحافی نے خبر دیتے وقت کس قسم کی تحقیق کی

اسی بارے میں