دہلی میں جیٹ انجن کی مدد سے سموگ سے نمٹنے کی تیاری

دہلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہلی میں فضائی آلودگی کے سب مٹ میلا نارمل ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کی فضا کو صاف کرنے کے لیے امریکہ انڈیا اور سنگاپور کے سائنسداں ایک نادر تجربہ کر رہے ہیں۔

امریکہ کی معروف یونیورسٹی ایم آئی ٹی میں ایروناٹیکل انجینیئر اور فضائي آلودگی کے سائنسداں موشے المارو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجربے سے دنیا بھر میں سموگ میں کمی لانے کی نئی ٹیکنالوجی کامیابی کے ساتھ رائج کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس میں ناکارہ یا ریٹائرڈ طیاروں اور جیٹوں کے انجن کا استعمال کیا جائے گا اور اس سے دوسرے بہتیرے اخراج کرنے والے نظام میں بہتری لائی جا سکے گی۔

دہلی اس تجربے کے لیے مناسب جگہ ہو سکتی ہے جہاں تقاریب اور تہواروں میں پٹاخوں کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے، شہر کے غریب کوڑے کرکٹ جلاتے ہیں، شہر کے مضافات میں فصلوں کی جڑوں کو جلایا جاتا ہے، گاڑیوں کے اخراج اور تعمیرات کے دھول گرد ہیں جس سے دہلی کی فضا گدلی نظر آتی ہے۔

جاڑوں میں تو حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ تو حالات بہت خراب ہو گئے تھے، سموگ کی وجہ سے سکول بند کر دیے گئے، تعمیرات پر پابندی لگا دی گئی، لوگ ماسک پہننے پر مجبور ہو گئے اور بعض جگہ تو انھیں گھر سے ہی کام کرنے کے لیے کہا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ COPYRIGHT ©ALAMARO 2016 WITH PERMISSION
Image caption دہلی کی فضائی آلودگی کی صفائی کا ماڈل

ایسے اقدامات اس لیے کیے گئے کہ پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے ذرات پی ایم 2۔5 عالمی صحت کی تنظیم کے معیار سے 90 گنا اور انڈیا کی وفاقی حکومت کے معیار سے 15 گنا زیادہ ہو گئی تھی۔

یہ تجربہ دہلی میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر میں کیا جائے گا اور ایک ریٹائرڈ جیٹ انجن کو وہاں ٹریلر پر رکھا جائے گا۔ اس تجربے کے اخراج کا منہ آسمان کی جانب ہو گا اور انجن دھواں نکلنے کے پاس رکھ کر چلایا جائے گا۔

انجن کے چلنے سے اخراج کی رفتار 400 میٹر فی سیکنڈ ہو گی جو کہ تقریباً آواز کی رفتارکے برابر ہو گئی۔

اس ترکیب سے بجلی گھر کے اخراج کو زیادہ اونچائی پر پہنچایا جا سکے گا۔ اتنی اونچائی پر کہ وہ ٹھنڈا ہو کر سموگ نہ بن سکے۔

یہ ایگزاسٹ انجن ایک چمنی کی طرح کام کرے گا اور سموگ کو کھینچ کر اسے یہاں کی فضا سے باہر کر دے گا۔

خیال رہے کہ دہلی دنیا کے ان چند شہروں میں ہے جس کی فضا زہریلی قرار دی گئی ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے تو اسے 'گیس چیمبر' سے تعبیر کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ایک طیارے کے جیٹ انجن کے ذریعے ایک ہزار میگا واٹ والے بجلی گھر کے اخراج سے نمٹا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں