لندن کےرائل ہسپتال میں بچہ بدل سکتا ہے، سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایات

Image caption وائٹ چیپل ہسپتال میں گذشتہ سال 4,645 بچے پیدا ہوئے تھے

لندن کے ایک میٹرنٹی وارڈ سے والدین کے'غلط بچے کو گھر لے جانے' کے خدشات کے پیشِ نظر اس وارڈ کو کو اپنی سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دی کیئر کوالٹی کمیشن (سی کیو سی) کی جانب سے رائل لندن ہسپتال کو بتایا گیا ہے کہ بچوں کے نام کے بینڈ کی جانچ پڑتال میں لاپرواہی کی وجہ سے برطانیہ میں بچوں اور ان کے خاندانوں کو خطرہ ہے۔

بسکٹ کے ڈبوں میں ’نوزائیدہ بچے‘

وائٹ چیپل ہسپتال میں گذشتہ سال 4,645 بچے پیدا ہوئے تھے۔

جولائی میں وائٹ چیپل ہسپتال کا دورہ کرنے والے انسپیکڑوں کو معلوم ہوا کہ ڈیلیوری سوٹ میں تمام خواتین کوحفاظت فراہم کرنے کے لیے دائیوں کی مناسب تعداد موجود نہیں تھی۔

اس ہسپتال کو چلانے والے این ایچ ایس ٹرسٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ میٹرنٹی یونٹ میں جس کی ریٹنگ ’ناکافی‘ قرار دی گئی ہے، سکیورٹی کو بہتر بنانے لیے 'فوری' اقدامات کریں۔

سی کیو سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں پیدا ہونے والے کچھ بچوں کے نام کے ٹیگ نہیں تھے جس کے بعد اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ ایک بچے کا علاج کسی دوسرے بچے کی جگہ ہو سکتا ہے اور مائیں غلط بچے کو یونٹ سے لے کر جا سکتی ہیں۔

چیف انسپیکٹر آف ہاسپیٹلز پروفیسر سر مائیک رچرڈز کا کہنا ہے کہ 'ٹرسٹ' کے ساتھ بہت سے معاملات ان کی فوری توجہ کے لیے اٹھائے گئے۔

ان کا مزید کہنا تھا 'ہمیں میٹرنٹی اور امراض نسواں میں فراہم کی جانے والی سروسز کے سٹینڈرڈ پر سخت تشویش ہے۔'

دوسری جانب این ایچ ایس ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ وہ پیدا ہونے والے بچوں کی حفاظت کے خدشات کے پیشِ نظر پہلے ہی اقدامات اٹھا چکا ہے جس میں ان کے آئی ٹیگز بھی شامل ہیں۔

ٹرسٹ کی ایک ترجمان کا کہنا ہے 'ہم نے دی رائل ہسپتال لندن میں پیدا ہونے والے بچوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔'

'اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ یہ رپورٹس پانچ ماہ پہلے کے مشاہدے پر مبنی ہیں۔ تب سے ہم نے اپنے قواعد اور طریقِ کار کی فورنزنک انداز میں جانچ پڑتال کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں