سانس بحال کرنے کی تکنیک کے موجد انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈاکٹر ہیملچ نے سنہ 1974 سانس کی نالی میں موجود رکاوٹ ختم کرنے کی تکنیک متعارف کروائی تھی

گلے میں کھانا پھنس جانے کے سبب بند سانس کو بحال کرنے لیے استعمال ہونے والی تکنیک کے موجد امریکی ڈاکٹر ہنری ہیملچ 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر ہیملچ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہونے والی پچیدگیوں کے سبب اتوار کی صبح انتقال کر گئے ہیں۔

انھوں نے سنہ 1974 میں زندگی بچانے کی تکنیک متعارف کروائی تھی جس میں سانس کی نالی میں موجود رکاوٹ ختم کرنے کے لیے پیٹ پر زور سے دبایا جاتا ہے۔

انھوں نے اپنے ریٹائرمنٹ ہوم میں موجود ایک عورت کی جان بچانے کے لیے خود بھی اس تکنیک کا استعمال کیا۔

ڈاکٹر ہیملچ نے بتایا کہ اس تکنیک کی مدد سے انھوں نے 87 سالہ عورت کے گلے میں پھنسی ہڈی نکال کر اُس کی سانس بحال کی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'مجھے اُس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا جب تک میں نے ایسے کیا نہیں۔'

ڈاکٹر ہیملچ نے جب یہ تکنیک متعارف کروائی تو اُس وقت وہ امریکہ میں یہودیوں کے ایک ہسپتال میں سرجری کے ڈائریکٹر تھے۔

ڈاکٹر ہیملچ کی خاندان کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'وہ دنیا میں بہت سے افراد کے لیے ہیرو تھے۔'

بیان کے مطابق 'جب والد نے نیو یارک سے اپنے میڈیکل کریئر کا آغاز کیا تو وہ ہسپتال میں سرجن تھے۔ وہ سادہ اور اثر انگیز خیالات کے بارے میں پر عزم تھے جن سے لوگوں کی زندگیاں بچائی جائیں اور اُن کی زندگی کے معیار کو بہتر کیا جا سکے۔'

سانس بحال کرنے کی یہ تکنیک ہی اُن کی واحد کامیابی نہیں تھی۔ سنہ 1962 میں انھوں نے چھاتی سے مواد نکالنے کے لیے جھلی بنائی تھی، جس سے ویتنام کی جنگ میں متاثر ہونے والی کئی فوجیوں کی زندگیاں بچائی گئی تھیں۔ چھاتی کی سرجری کے دوران اب بھی اس چیسٹ ڈرین ویول کا استعمال ہوتا ہے۔

اسی بارے میں