چیتے معدومیت کے خطرات سے دوچار

تصویر کے کاپی رائٹ zsl

ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں چیتے تیزی سے معدومیت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اندازے کے مطابق تیز ترین ممالیہ کی دنیا کے جنگلوں میں کل تعداد 71000 رہ گئی ہے۔

چیتوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اب اپنی محفوظ پناہ گاہوں کی حدود سے بہت باہر نکل چکے ہیں اور ان کا انسانوں سے ٹکراؤ بڑھ گیا ہے۔

٭’برفانی چیتے انسانی انتقام کا نشانہ‘

رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں جانداروں کی ایسی اقسام کا اندازہ لگانا فوری طور پر ضروری ہے جو خطرے سے دوچار ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق دنیا میں باقی رہ جانے والے نصف سے زیادہ چیتے جنوبی افریقہ کے چھ ممالک کے اندر موجود ہیں۔

ایشیا میں چیتوں کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ ایران میں 50 سے بھی کم چیتے موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ zsl

کیونکہ چیتےدنیا میں تیزی سے پھیلنے والے گوشت خور ہیں۔ یہ محفوظ علاقوں سے باہر نکل کر گھومتے ہیں۔ اور ان کے 77 فیصد ٹھکانے ان کے لیے مخصوص پارکس اور ان کے لیے مختص علاقوں سے باہر ہے۔

مگر اب کسان ان زمینوں کو استعمال میں لا رہے ہیں جس کی وجہ سے چیتوں کی خوراک کا ذریعہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

زمبابوے میں 16 سال کے عرصے میں چیتوں کی تعداد 1200 سے کم ہو کر 170 رہ گئی ہے اور اس کی اہم وجہ زمین میں کی جانے والی بڑی تبدیلیاں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیتوں کی تعداد میں ہونے والی کمی کی ایک اور وجہ خلیجی ریاستوں کی جانب اس کی سمگلنگ بھی ہے۔

چیتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں 1200 چیتوں کو افریقہ سے سمگل کرنے کی کوشش گئی جبکہ ان میں سے 85 فیصد اس دوران ہی ہلاک گئے تھے۔

اسی بارے میں