2016 کے دوران طب کی دنیا میں برفانی پانی، زیکا اور تین والدین کا بچہ

زیکا وائرس تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس سال دنیا کی تاریخ میں پہلی بار تین والدین کا بچہ پیدا ہوا، خطرناک زیکا کی وبا پھیلی اور میڈیکل سائنس نے ایک بڑی ناانصافی کا ازالہ کیا۔

یہ ہیں اس سال کی بڑی طبی خبریں:

زیکا وائرس

2015 میں بہت کم لوگوں نے لفظ زیکا سنا ہو گا۔ اب اس وائرس کے باعث چھوٹے سروں والے بچوں کی تصاویر ہر کسی نے دیکھ رکھی ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے اس بیماری کی طبی بحران قرار دیا تھا اور اس کی وجہ سے ابتدا میں برازیل میں اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔

وسیع پیمانے پر کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں سے زیکا پر قابو تو پا لیا گیا لیکن ابھی تک اس مرض کی کوئی دوا یا ویکسین نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEW HOPE FERTILITY CENTRE
Image caption تین والدین کا بچہ ڈاکٹر جان ژانگ کی گود میں۔ اس بچے کے جسم میں تین افراد کا ڈی این اے ہے

تین والدین کا بچہ

اس سال پہلی بار دو خواتین اور ایک مرد کے جینیاتی مواد کے اشتراک سے ایک بچہ پیدا ہوا۔

میکسیکو میں جنم لینے والے اس بچے کی ماں کے علاوہ 0.1 فیصد ڈی این اے ایک اور عورت سے لیا گیا تاکہ بچے کو ایک مہلک بیماری سے بچایا جا سکے جو ماں سے بچے میں منتقل ہوتی ہے۔

سِسٹک فائبروسس کی دوا

یہ وہ بیماری ہے جس کے باعث پھیپھڑوں میں گاڑھا مواد اکٹھا ہوتا رہتا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے مریضوں کا نصف 40 سال تک پہنچنے سے قبل ہی چل بستا ہے۔ تاہم اب ایک نئی دوا 'اورکامبی' کی مدد سے اس مرض کا باعث بننے والی جینیاتی خرابی ٹھیک کی جا سکتی ہے۔

Image caption علاج کے بعد سارہ اب پیانو بجا سکتی ہیں

مدافعتی نظام کا دماغ پر حملہ

سارہ کہتی ہیں کہ 'میں خواب دیکھتی تھی کہ میرے جسم سے مکڑی کی ٹانگیں یا پھر خرگوش جیسے کان نکل رہے ہیں۔'

ڈاکٹروں نے معلوم کیا کہ ان کی بیماری کی وجہ مدافعتی نظام کا دماغ پر حملہ ہے۔ انھیں ایسی ادویات دی گئیں جن سے ان کے مدافعتی نظام پر قابو پایا گیا اور ان کے خون کو فلٹر کر کے اس میں سے مضر اجزا نکال باہر کیے گئے۔

تازہ ترین دریافتوں کے مطابق ڈپریشن کے مرض کے پیچھے بھی مدافعتی نظام کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیویارک شہر نے ایڈز کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا ہے

بالآخر انصاف مل گیا

گیٹن ڈوگس کا نام طبی تاریخ کے بدترین ولین کے طور پر ہوتا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھی نے دنیا بھر میں ایڈز کا مرض پھیلایا ہے اور انھیں 'پیشنٹ زیرو' یا اولین مریض کہا جاتا تھا۔

تاہم اب سائنس دانوں نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ڈوگس 1970 کی دہائی میں ایڈز سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد میں سے ایک تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

لیبارٹری میں جنین

سائنس دان اس سال لیبارٹری میں سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والا جنین پالنے میں کامیاب ہو گئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے انھیں تولیدی امراض کا شکار جوڑوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

بغیر چاقو کے آپریشن

ڈاکٹروں نے آواز کی لہروں کی مدد سے دماغ کے آپریشن کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے برطانیہ کے شہر کرامویل سے تعلق رکھنے والے مرگی کے ایک مریض کا آواز کی لہروں کی مدد سے کامیاب آپریشن کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MND ASSOCIATION
Image caption آئس بکٹ چیلنج اے ایل ایس کی تحقیق میں بڑی پیش رفت کا باعث ثابت ہوا

برفانی پانی کی بالٹی اور نقدی

2014 میں ایک عجیب مظہر سامنے آیا تھا، آئس بکٹ چیلینج، جس کے تحت لوگ اپنے سر پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیلتے اور پھر خیراتی ادارے کو چندہ دیتے تھے۔

اس سے اے ایل ایس کے اعصابی مرض کے لیے ساڑھے 11 کروڑ ڈالر کی رقم اکٹھی ہوئی تھی۔ اس رقم سے ہونی والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ مرض NEK1 نامی ایک جین کے باعث ہوتا ہے۔