2016 کی اہم دریافتیں: دوست بلیاں اور ہینی بال کے گھوڑے

تصویر کے کاپی رائٹ CAMBRIDGE ARCHAEOLOGICAL UNIT
Image caption دریا کے اوپر بنی برطانوی بستی کی خیالی تصویر

سنہ2016 میں آثارِ قدیمہ کی دنیا میں خاصی دلچسپ اور حیرت انگیز دریافتیں دیکھنے میں آئیں۔ ان کی مدد سے ان انسانی خصوصیات کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف ہم سب کو قدیم ماضی میں ایک لڑی میں پروئے رکھا بلکہ وہ آج بھی ہم پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اس سال کی چند بڑی دریافتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CAMBRIDGE ARCHAEOLOGICAL UNIT
Image caption کھدائی سے ملنے والی کانسی کی کلہاڑی

برطانیہ کا پومپئی

سنہ 2011 میں برطانیہ میں آثارِ قدیمہ سے متعلق سب سے ڈرامائی دریافت پیٹربرو کے قریب دیکھنے میں آئی۔ کھدائی کے دوران کانسی کے زمانے سے تعلق رکھنے والی نو کشتیاں ملیں، جن کے پاس ہی مچھلیاں پکڑنے کے جال اور ہتھیار بھی تھے۔

اس سال اس جگہ سے تھوڑی دور دریا کی تہہ کے گارے کی کھدائی سے کانسی کے زمانے کے برطانیہ پر مزید روشنی پڑی۔

تین ہزار سال قبل کے برطانوی باشندوں نے دریا کے اوپر لکڑی کی ٹانگوں پر گھر تعمیر کر رکھے تھے، جو آگ کی نذر ہو گئے۔ بچے کھچے آثار میں ایک پیالہ ملا جس میں اب بھی کھانا اور اسے ہلانے والی لکڑی موجود تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکین بڑی افراتفری میں گھر چھوڑ کر بھاگے ہوں گے۔

ماہرین کو اسی مقام سے دھاگے کا گولہ، برتن، پیالے اور پیالیاں، لکڑی کے صندوق اور بالٹیاں، پیروں اور جوتوں کے نشان اور کپڑوں کے پارچے ملے جن سے اس زمانے کی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔

ان چیزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کے باسی نسبتاً خوش حال تھے، اور ان کے براعظم یورپ سے بھی رابطے تھے۔

ایک سوال اب بھی باقی ہے۔ کیا یہ آگ اتفاقی تھی یا کسی نے جان بوجھ کر لگائی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BRENDAN FENERTY
Image caption ہاتھی کی نسل کے جانور میسٹاڈون کی ہڈی

براعظموں کے پار

امریکی ریاست فلوریڈا میں دریائے فلوریڈا کے وسط میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا ماضی سے عجیب ٹکراؤ ہوا۔ وہاں پانی کے نیچے پتھر کے اوزار دریافت ہوئے جو 14,550 برس پرانے تھے۔

یہ قابلِ ذکر دریافت اس بحث میں جلتی پر تیل کا سا کام کرتی ہے کہ انسان براعظم امریکہ کب پہنچا۔ روایتی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ قدیم انسان 13 ہزار سال قبل آبنائے بیرنگ عبور کر کے الاسکا میں وارد ہوا اور پھر وہاں سے براعظم امریکہ کے دوسرے حصوں میں پھیل گیا۔

لیکن اس دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ انسان اس سے بھی ڈیڑھ ہزار سال قبل امریکہ میں موجود تھا۔

اسی مقام سے جانوروں کے ڈھانچوں کے قریب پتھر کے ہتھیار پائے گئے۔ ہاتھی کی نسل کے ایک جانور میسٹاڈون کے دانت پر اوزار سے کاٹنے کے نشانات پائے گئے جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان اور یہ جانور ایک ہی دور میں بستے تھے۔

بعد میں میسٹاڈون کی نسل معدوم ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NHM/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption مصر میں ہزاروں سال سے جانوروں کی ممیاں بھی بنائی جاتی رہی ہیں

دوست بلیاں

ڈی این اے کے تجزیے سے معلوم کیا جا رہا ہے کہ انسان نے بلیوں کو کب پالتو بنایا۔ سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے یوریشیا اور افریقہ کے مختلف مقامات سے بلیوں کے 200 ڈھانچوں کا جائزہ لیا جو دس ہزار برس تک پرانے تھے۔

ان سے معلوم ہوا کہ بلیاں زراعت کے آغاز کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بسنے والے انسانوں سے رفتہ رفتہ مانوس ہوتی چلی گئیں۔

زرعی دور میں چوہے غلے کے ذخیرے برباد کر دیتے تھے، ان سے نمٹنے کے لیے بلیاں بہت کارآمد ثابت ہوئیں۔ قبرص میں ایک آدمی کی ساڑھے نو ہزار برس قدیم قبر کے اندر بلی کے ڈھانچے کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ بلی اس وقت بھی انسان کے لیے اہم پالتو جانور تھی۔

جب یہ کسان ہجرت کر کے دوسرے علاقوں، مثلاً بحیرۂ روم کے علاقوں اور یورپ، وغیرہ، کی طرف گئے تو بلیاں بھی ان کے ساتھ چلی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US DOE/SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption 1950 میں ایٹمی دور کا آغاز ہوا جسے اب انسانی ارضیاتی دور کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا رہا ہے

گرم ہوتی دنیا

سائنس دان اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ زمین کی تاریخ کے ارضیاتی زمانوں میں انسانی زمانے کا بھی اضافہ کر دیا جائے، جس کا آغاز 1950 سے ہو۔

تاہم انسان اس سے کہیں پہلے سے ماحول پر اثرانداز ہو رہا ہے۔

آج سے دس ہزار سال قبل بھی انسان زراعت اور مویشی بانی کے ذریعے فضا میں بھاری مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں چھوڑ رہا تھا۔

سائنس دانوں نے قطبی برف میں گذشتہ آٹھ لاکھ برسوں میں میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ناپی تو معلوم ہوا کہ صنعتی انقلاب سے بہت پہلے سے انسان نے ماحولیاتی تبدیلی میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔

بعض سائنس دانوں کے مطابق انسانوں کی اسی مداخلت کی وجہ سے ممکنہ طور پر اگلے برفانی دور کا دروازہ بند ہو گیا ورنہ اس وقت زمین میلوں موٹی برف کی تہہ تلے دبی ہوتی۔

قدیم دیکھ بھال

جنوب مغربی امریکہ میں ایک نوجوان عورت کی قبر سے معلوم ہوا کہ اس کا کتنا خیال رکھا گیا تھا۔

اس عورت کو سکولیوسس نامی بیماری تھی جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر چلنے پھرنے سے معذور رہی ہو گی۔

اس کے باوجود وہ دو عشروں تک زندہ رہی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں نے اس کی اچھی دیکھ بھال کی ہو گی۔ اس کی قبر میں بہت ساری اشیا ملیں جنھیں اس کے ساتھ ہی دفنایا گیا تھا۔

آٹھ سو سال قبل کے ان آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عورت کسی بڑے خاندان کی رکن رہی ہو گی۔

سال کی دوسری اہم دریافتیں:

  • اس سال ہونے والی ایک دریافت سے معلوم ہوا کہ مشہور فاتح ہینی بال نے کوہِ ایلپس کو عبور کرنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا تھا۔
  • گھوڑے کی 200 سال قبل مسیح پرانی لید سے اس کے راستے کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم ہاتھی کا گوبر ابھی تک نہیں ملا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ ہینی بال ساتھ ہاتھی بھی لے گیا تھا۔
  • برطانیہ کے سٹون ہینج میں عورتوں کے کردار پر اس برس کے آغاز میں روشنی پڑی جب اس مقام سے 14 عورتوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے۔