’کولھوں کے درد کا تعلق ارتقائی دور سے ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے ارتقائی دور کے بارے میں نئی معلومات سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ انسانوں کے کندھوں، گھٹنوں اور کولھوں میں درد کیوں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حالیہ رجحانات جاری رہے تو مستقبل کے انسانوں کو اس سے بھی زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے چالیس کروڑ برسوں کے مختلف اقسام کے نمونوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہزاروں سالوں کے دوران ہڈیاں کیسے پراسرار طور پر تبدیل ہوئی ہیں۔

یہ تبدیلیاں تب آئیں جب انسانوں نے دو ٹانگوں پر سیدھے کھڑے ہونا شروع کیا۔

دیگر محقیقین نے بھی انسانوں میں ایسی ہی ارتقائی تکالیف کو محسوس کیا ہے۔ بعض لوگوں کو پشت کے نچلے حصے میں مسائل ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ریڑھ کی ہڈی کا اپنے سب سے قریبی رشتہ دار چمپینزی جیسا ہونا ہے۔

اس تحقیق کے رہنما اور نیوفیلڈ ڈپارٹمنٹ آف آرتھوپیڈ کس، ’ریہومیٹالوجی اور مسکیولاسکیٹل سائنسز‘ کے ڈاکٹر پال مانک یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ ان کے کلینک پر آنے والے مریض ہڈیوں کے ایک ہی جیسے مسائل کے ساتھ کیوں آتے ہیں۔

ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ ’ہم عام طور پر کلینکس میں کندھوں، گھٹنوں کے سامنے والے حصوں اور کولھوں میں درد کی شکایات کے ساتھ لوگوں کو آتے دیکھتے ہیں جبکہ ایسے نوجوان بھی آتے ہیں جنھیں جوڑوں میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے۔‘

’ہمیں حیرانی ہوتی تھی کہ کیسے ہم زمین پر ہڈیوں اور جوڑوں کی اس انوکھی ترتیب کے ساتھ آئے جس کی وجہ سے لوگوں کو ایسے مسائل ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سوچ نے ہمیں یہ خیال دیا ہے کہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں پیچھے مڑ کر ارتکائی عمل کی طرف دیکھنا ہوگا۔‘

محققین کی ٹیم نے اس جواب کو تلاش کرنے کے لیے نیچرل ہسٹری میوزیم لندن اور سمتھسونین انسٹیٹیوٹ واشنگٹن میں موجود قدیم نمونوں میں سے 300 کا مکمل سی ٹی سکین کیا۔

اس سی ٹی سکین سے حاصل ہونے والی معلومات کو اکھٹا کرکے محققین D3 ماڈلز کی ایک لائبریری بنانے اور لاکھوں سالوں میں ایک ہڈی کی شکل میں تبدیلی کو دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مختلف انواع میں تبدیلی چار ٹانگوں پر چلنے کے بعد دو ٹانگوں پر کھڑے ہونے سے آئی، مثال کے طور پر ران کی ہڈی کی گولائی مزید پھیل گئی تاکہ اضافی وزن کو سہارا دے سکے۔

ڈاکٹر مانک کے مطابق: ’دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم ان رجحانات کا مستقبل کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہڈی کی یہ شکل مزید پھیلتی دکھائی دیتی ہے اور یہ مزید جوڑوں کے درد کا باعث بنتی دکھائی دیتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں