دنیا میں کسی مہلک وبا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں: بل گیٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ایبولا اور زکا وائرس کے پھیلنے سے جو ہنگامی صوتحال پیدا ہوئی، اس سے عالمی سطح پر نئی ادویات اور ویکسینز بنانے کی صلاحیت کی کمزوری رونما ہوگئی ہے

امریکی ارب پتی فلاحی کارکن اور ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں صحتِ عامہ کے مختلف نظاموں میں تیزی سے پھیلنے والی کسی مہلک وبا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ پرامید ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر وباؤں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ہے تاہم ان کے خیال میں فی الحال ہم قدرے غیر محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ بل گیٹس ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے بانی ہیں۔ وہ دنیا کی امیر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں انھوں نے مائیکروسافٹ میں اپنے کردار کو وقت کے ساتھ ساتھ کم کرتے ہوئے اپنی توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز رکھی ہے۔ وہ اور ان کی بیوی بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نامی فلاحی تنظیم چلاتے ہیں۔ اس تنظیم کے اہم ترین پروگراموں میں غریب ممالک میں بیماریوں کے خلاف ویکسینز تقسیم کرنا شامل ہے۔

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ایبولا اور زکا وائرس کے پھیلنے سے جو ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، اس سے عالمی سطح پر نئی ادویات اور ویکسینز بنانے کی صلاحیت کی کمزوری رونما ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات سے تھوڑے پریشان رہتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ دس سالوں میں کوئی بڑی وبا دنیا میں نہ آجائے۔

انھوں نے بتایا اس وقت دنیا بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ ہنگامی صورتحال میں تنظیمی اور قانونی حدود کی وجہ سے ہمارے ردِعمل میں آنے والی رکاوٹوں کو کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ 2014 میں پھیلنے والی ایبولا کی وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے

یاد رہے کہ گذشتہ سال صحتِ عامہ کے عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے کہا تھا کہ بین الاقوامی توجہ کی کمی اور رہنمائی کی ناکامی کے سبب ایبولا کی وبا میں لوگوں کو تکالیف سے گزرنا پڑا اور بے جا ان کی جانیں گئیں۔ لندن سکول آف ہائیجین اور ٹراپیکل میڈیسن کی سربراہی میں تیار کی جانے والی رپورٹ میں اس طرح کی وبا سے مستقبل میں محفوظ رہنے کے لیے وسیع اصلاحات پر زور دیا گيا تھا۔

مارچ 2014 میں پھیلنے والی اس وبا میں 11 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور اس کی زد میں آنے والے ممالک میں افریقہ کے گنی، لائبیریا اور سیئرالیون شامل تھے۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ یہ ممالک وبا کو پہچاننے، اسے رپورٹ کرنے اور اس کے متعلق اقدام لینے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے 'ایبولا عالمی بحران کی صورت اختیار کر گیا۔' رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ اس نے ایبولا کو 'عالمی ہنگامی صورت حال' قرار دینے میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں