2017 کے اختتام تک چین میں ہاتھی کے دانتوں کی تجارت پر پابندی

چین نے سنہ 2017 کے اختتام تک ہاتھی کے دانتوں کی تجارت اور انھیں استعمال میں لانے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کینیا میں رواں برس ہاتھی کے دانتوں جن کا وزن 105 ٹن تھا کو جلا دیا تھا جس کا مقصد ان کی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا تھی

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے ’تاریخی‘ اور ’گیم چینجر‘ قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت اکتوبر میں خطرے سے دوچار حیوانات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ایک کنوینشن میں پیش کی گئی قرارداد کے بعد سامنے آئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا میں ہاتھی کے دانتوں کی سب سے بڑی مارکیٹ چین میں ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق دنیا میں ہاتھی کے دانتوں کی 70 فیصد تجارت چین میں ہوتی ہے۔

چین میں ہاتھی کے دانتوں کی فی کلو کے لحاظ سے قیمت گیارہ سو امریکی ڈالر ہے۔

چین کی سٹیٹ کونسل نے جمعے کو اس پابندی کا اعلان کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگلے برس مارچ سے ہاتھی کے دانتوں کا کمرشل سطح پر استعمال اور فروخت کو ترک کر دی جائے گی۔

ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بین القوامی سطح پر کی جانے والی ان کوششوں میں معاونت ملے گی جن میں افریقہ میں ہاتھیوں کی چوری جیسے خطرات سے نمٹنا شامل ہیں۔

اگرچہ بین الاقوامی سطح پر ہاتھی کے دانتوں کی مارکیٹ سنہ 1989 سے بند ہوچکی تھی تاہم بہت سے ممالک میں مقامی سطح پر اس کا کاروبار اب بھی جاری ہے۔

ہاتھیوں کی دنیا بھر میں تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کیے جانے والے سروے کے ذریعے حال ہی میں معلوم ہوا تھا کہ افریقہ میں ہاتھیوں کی آبادی میں تین چوتھائی کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں