چین: ایپل نے نیویارک ٹائمز کی ایپ کو ہٹالیا

نیو یارک ٹائمز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایپل نے 23 دسمبر کو انگریزی اور چینی دونوں زبانوں میں چین میں اس کی ایپ کو اپیل سٹور سے ہٹا لیا تھا

چینی حکام کی درخواست پر ٹیکنالوجی کی معروف امریکی کمپنی ایپل نے اپنے ’چائنا ایپ سٹور‘ سے اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایپ کو ہٹا لیا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ قاریئن کو ’آزادنہ نیوز کوریج‘ تک رسائی سے بعض رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ انھیں یہ بتایاگیا تھا کہ اس ایپ سے چینی قواعد و ضوابط کی مخالفت ہوتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گيا کہ اس سے کن اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

چین میں اپنا مواد دستیاب کروانے میں مغربی میڈیا کو ایک مدت سے پریشانیوں کا سامنا رہا ہے۔ بیشتر میڈیا اداروں کو بہت بار بند کیا جا چکا ہے جبکہ بعض کو تو مستقل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایپل نے 23 دسمبر کو انگریزی اور چینی دونوں زبانوں میں چین میں اس کی ایپ کو اپیل سٹور سے ہٹا لیا تھا۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایپل سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا ہے۔

اس سے قبل اخبار نے سنہ 2012 میں جب چینی سیاست دانوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے نجی طور پر زبردست دولت جمع کرنے سے متعلق جب کئی مضامین شائع کیے تھے تو اس وقت بھی اخبار کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا گیا تھا۔

اخبار نے ایپ ہٹائے جانے کے بارے میں چین کے ان اصول و ضوابط کا ذکر کیا ہے جس میں قومی سلامتی کو خطرہ اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کرنے جیسی وجوہات کا حوالہ دیا جاتا ہے تاہم اخبار کے مطابق اس مقصد کچھ اور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایپل سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا ہے

اخبار کے ترجمان ایلین مرفی کا کہنا تھا: ’ہماری اپیپ کو ہٹانے کی چینی حکام کی درخواست قارئین کو نیو یارک ٹائمز کی آزادنہ نیوز کوریج تک رسائی سے روکنے کی ان کی وسیع تر کوششوں کا ایک حصہ ہے، چین میں بھی ہماری صحافت دنیا کے دوسرے ممالک کی کوریج کی طرح ہے جو دوسرے ممالک سے مختلف نہیں ہے۔‘

لیکن دوسرے میڈیا ادارے جیسے واشنگٹن پوسٹ، وال سٹریٹ جنرل، بی بی سی نیوز، دی فائنانشیئل ٹائمز، اے بی سی نیوز، سی این این اور رائٹرز وغیر تک رسائی آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

جہاں تک بی بی سی کا سوال ہے تو چینی زبان میں ویب سائٹ تو پوری طرح بلاک ہے جبکہ انگریزی کی سائٹ کھلی ہے لیکن اس پر بھی انسانی حقوق کے تعلق سے شائع ہونے والی خبروں کو بھی وقتا فوقتا بلاک کر دیا جاتا ہے۔

چین میں گوگل، یوٹیوب اور فیس بک جیسی مغربی ویب سائٹ پر ویسے بھی پابندی عائد ہے۔

متعلقہ عنوانات