زمین کی سب سے اندرونی تہہ کے مادے کی ممکنہ شناخت

زمین کا اندرونی حصہ تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption زمین کے اندرونی حصے کی یہ تصویر اس کی ساخت کے بارے میں عمومی معلومات کی عکاسی کرتی ہے

جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے اپنی نئی تحقیق کی مدد سے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ میں پایا جانے والا نامعلوم مادہ سیلیکون ہو سکتا ہے۔

وہ ایک طویل عرصے سے اس پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زمین کی اندرونی تہہ میں لوہے اور نکل (چاندی جیسی دھات) کے علاوہ اور کون کون سے عناصر شامل ہیں۔

لیکن اب زمین کی اندرونی تہہ میں پاۓ جانے والے انتہائی گرم درجہ حرارت اور دباؤ کو مصنوعی طریقے سے بنا کر سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ مادہ سیلیکون ہے۔

اس دریافت سے زمین اور اس کی تخلیق کے عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ ایجی اوہ تانی نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ سیلیکون وہ اہم مادہ ہے جو کے زمین کی اندرونی تہہ کا تقریباً پانچ فیصد حصہ ہےجو کہ لوہے اور نکل کے مرکب میں مل جاتا ہے۔‘

زمین کی اندرون ترین تہہ ایک ٹھوس گیند کی مانند ہے اور اس کا نصف قطر تقریبا 1200 کلومیٹر ہے۔ اتنی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے سائنسداں اس تہہ کی براہ راست تحقیق تو نہیں کر سکتے لیکن وہ اس کی تہہ سے گزرنے والے زلزلے کی لہروں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس ٹھوس گیند کا 85 فیصد حصہ لوہے کا بنا ہوا ہے جبکہ دس فیصد حصہ نکل نامی دھات کا۔

بقیہ پانچ فیصد حصے کو سمجھنے کے لیے ایجی اوہ تانی اور ان کی ٹیم نے لوہے اور نکل کے مرکب کو تیار کیا اور اس میں سیلیکون شامل کیا، جس کے بعد اِس کو اُسی مصنوعی طریقے سے انھی دباؤ اور درجہ حرارت سے گزارا جیسا زمین کی اندرونی تہہ میں پایا جاتا ہے۔

اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ اس مرکب کا رد عمل ویسا ہی تھا جیسا حقیقت میں زمین کی اندرونی تہہ میں ہوتا ہے۔

پروفیسر ایجی اوہتانی نے کہا کہ اس دریافت کو یقینی بنانے کے لیے انھیں مزید کام کرنا ہے۔

انھوں نے یہ دریافت حال ہی میں امیریکن جیو فیزیکل یونین، سان فرانسسکو میں پیش کی تھیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن ریڈفرن نے اس دریافت پر تبصرہ کیا کہ یہ بہت دلچسپ تجربہ ہے اور اس سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار ارب سال پہلے زمین کی تخلیق کے بعد کا عمل کیا تھا اور کیسا تھا۔

انھوں نے کہا: 'یہ تجربہ ہماری معلومات اور سمجھ بوجھ میں بہت اضافہ کر سکتا ہے لیکن ابھی ہمیں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں