روس میں سگریٹ نوشی غیر قانونی قرار دینے پر غور

سگریٹ نوشی
Image caption روس میں سگریٹ نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں تقریباً 40 فی صد آبادی سگریٹ پیتی ہے

روس کی وزارت صحت سنہ 2014 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے تمام افراد کو سگریٹ کی فروخت بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یہ تمباکو کے خلاف ملک کے سیاسی رہنماؤں کے سخت اقدامات کا حصہ ہے۔

اس نسل کے لوگوں پر بالغ ہونے کے بعد بھی پابندی جاری رہے گی۔

ابھی اس بابت صرف غور کیا جا رہا ہے لیکن اگر اس پر عمل در آمد ہو گیا تو روس میں بالآخر سگریٹ نوشی غیر قانونی ہو جائے گی۔

روسی نیوز سائٹ ازویستیا کا کہنا ہے کہ اس نے اس بارے میں ایک سرکاری دستاویز دیکھی ہے جس میں 2017 سے 2022 کے درمیان اور اس کے بعد بھی تمباکو کے خلاف حکومتی حکمت عملی کا ذکر ہے۔

اس کے مطابق روسی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسے حکومتی سطح پر وسیع پیمانے پر جاری کیا جا رہا ہے۔

دا ٹائمز اخبار کے مطابق ملک صحت کمیٹی کے ایک رکن نیکولائی گراسیمنکوف نے کہا کہ ’یہ ہدف اصولی طور پر بالکل صحیح ہے۔‘

Image caption صدر پوتن فٹنس کے دلدادہ ہیں اور سگریٹ نوشی کے خلاف ہیں

سگریٹ نوشی کے خلاف مہم کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدام دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی کیے جانے چاہییں لیکن انھیں کبھی بھی حکومت کا تعاون حاصل نہیں ہو سکا۔

روس میں ویسے بھی کام کی جگہ، رہائشی عمارتوں کے زینوں پر، بسوں، ٹرینوں، سٹیشن اور ایئرپورٹ کے 15 میٹر کے دائرے میں سگریٹ نوشی منع ہے۔

روس میں سگریٹ نوشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں تقریباً 40 فی صد آبادی سگریٹ پیتی ہے اور روس کی سگریٹ منڈی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً 22 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں