کرپشن سکینڈل: سام سنگ کے سربراہ سے پوچھ گچھ

  • 12 جنوری 2017
سام سنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سانگ کے سربراہ لی جائے یونگ سے کرپشن سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

سام سنگ کمپنی پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر پاک گُن ہے کی دوست اور کرپشن سکینڈل کی مرکزی کردار چوئی سُن سِل کی تنظیموں کو 31 لاکھ ڈالر کے عطیات دیے تھے اور انھوں نے ایک متنازع کاروباری فیصلے کی سیاسی حمایت کے عوض یہ عطیات دیے تھے۔

لی جائے یونگ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ’میں اس واقعے کی وجہ سے مثبت تصویر پیش کرنے میں ناکامی پر لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔‘

اس سکینڈل میں ملوث ملک کی صدر پاک گُن ہے کے خلاف مواخذے کی تحریک چلی اور پچھلے سال نو دسمبر کو پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد ان کو معطل کر دیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کے قانون کے مطابق آئینی عدالت اب اس معطلی کے حق یا مخالفت میں چھ مہینے کے عرصے میں فیصلہ سنائے گی۔ اس وقت تک ملک کی باگ ڈور وزیرِاعظم کے پاس ہو گی۔

اس سے قبل رواں ہفتے سام سنگ کے دو دیگر اعلیٰ اہلکاروں سے خصوصی پراسیکیوٹرز نے سوالات کیے تھے تاہم یہ پوچھ گچھ بطور گواہ کی گئی تھی نہ کہ مشتبہ افراد کے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ دسمبر میں پارلیمانی سماعت کے دوران سام سنگ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوئی سُن سل کی دو تنظیموں کو ایک کروڑ 70لاکھ ڈالر کے عطیات دیے ہیں لیکن اس کے عوض کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

لی جائے یونگ اس وقت سام سانگ کے نائب صدر ہیں لیکن 2014 میں اپنے والد اور کمپنی کے چیئرمین لی کُن ہی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے وہ کمپنی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں