’ڈیجیٹل شناخت جو شخصیت پر حاوی ہے‘

سوشل شناخت تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیا ہماری سوشل شناخت حقیقی شناخت پر اثر انداز ہوتی ہے؟

سوشلستان میں ان دنوں پانامہ کیس پر روزانہ ڈبل ٹرینڈز ہوتے ہیں اور کبھی ایک ریمارکس کی بنیاد پر لوگ خوشی سے اچھل رہے ہوتے ہیں اور کبھی دوسرے ریمارکس کی بنیاد پر لوگ طعنے دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس فیصلے ہوتے تو سوشلستان میں روزانہ پھانسیاں لگتیں۔ مگر ہم بات کرتے ہیں اس ہفتے کے اہم موضوع کی جانب جو ہے سوشل میڈیا کا استعمال۔

شناخت سے ڈیجیٹل شناخت کا سفر

سوشل میڈیا پر شناخت چھپا کر بات کرنا بہت آسان تھا اور چونکہ ٹیکنالوجی نئی تھی اس لیے اس پر گرفت کے لیے آلات اور طریقے بھی بنائے جا رہے تھے۔

مگر گذشتہ ہفتے کے واقعات کو دیکھ کی ایک بات واضح ہوتی ہے کہ شناخت چھپا کر گفتگو کرنا اور ٹرلنگ کرنا اب عام شہریوں کے لیے اس دور میں شاید ممکن نہیں رہا۔

مگر ناممکنات پھر عام شہریوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔

جس سے اس دور کی ایک بہت اہم حقیقت کی جانب توجہ مبذول ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کی انٹرنیٹ پر موجودگی اور اس پر آپ جو کچھ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں اور شائع کرتے ہیں اس پر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کی نظر ہے۔

یہ بات کوئی نئی نہیں ہے اور ایڈورڈ سنوڈن گذشتہ کئی سالوں سے یہ بات کہتے چلے آئے ہیں کہ ہماری نقل و حرکت، گفتگو ہر چیز پر نظر رکھی جاتی ہے اور وہ ضروری نہیں کوئی انسانی آنکھ ہو بلکہ ٹیکنالوجی کی نظر بھی کڑی ہے۔

اکثر لوگ ہوائی اڈے جاتے ہوئے فیس بُک پر چیک اِن کرتے ہیں، کھانا کھانے سے قبل انسٹاگرام پر تصویر لیتے ہیں اور لوکیشن ٹیگ کر کے کھانے سے قبل پوسٹ کرتے ہیں مگر یہ سب ایک نظام کا حصہ بنتا ہے جو عام پبلک کی دسترس میں ہے اور اسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے اور اسی طرح جو پسِ پردہ ہوتا ہے اس کا اندازہ تو آپ لگا سکتے ہیں۔

آپ نے کبھی سوچا کہ آپ انٹرنیٹ یا فیس بُک پر کوئی چیز ڈھونڈتے ہیں اور چند گھنٹوں کے بعد آپ اسی سے ملتی جلتی اشیا کے اشتہار اپنی ٹائم لائن پر دیکھتے ہیں۔

کیونکہ آپ کی حرکات و سکنات، پسند نا پسند کا آپ کے جاننے والوں کو پتا ہو نا ہو فیس بُک کو ضرور پتا ہوتا ہے۔

رہی بات شناخت ظاہر نہ کرنے کی تو اب دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ شناخت چھپانا تو بہت دور کی بات ہے آپ کی اپنی شناخت کی بجائے آپ کی ڈیجیٹل شناخت بہت معنی رکھتی ہے بلکہ شاید زیادہ اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر پر ہراس

ٹوئٹر پر ہراساں کیے جانے کے واقعات اور ٹرولنگ اپ عالمی مسئلہ ہے اور 2017 میں اسے ٹوئٹر کے لیے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ کیسے اس منظم ٹرولنگ پر قابو پانے کے پالیسی وضع کرے گا۔

یہ مسئلہ اس حد تک اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ اب ٹوئٹر اپنے میوٹ یعنی کسی اکاؤنٹ کیے بغیر نظر انداز کرنے کے لیے بنائے گئے ٹول یعنی 'میوٹ' کو مزید بڑھا رہا ہے جس کی مدد سے صارفین مخصوص اصطلاحات اور الفاظ ایک فہرست میں ڈال سکتے جو ان کی ٹائم لائن پر نہیں آئے گی۔

مگر ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ٹوئٹر اسے مزید بڑھا کر اس حد تک لے جانا چاہتا ہے آپ پوری کی پوری گفتگو میوٹ یعنی نظر انداز کر سکیں گے جس کے بعد آپ کی ٹائم لائن پر وہ گفتگو دکھائی نہیں دے گی۔

یہ اس حوالے سے اہم ہے کہ آپ کو اکثر اوقات ایک بحث میں ٹیگ کیا جاتا ہے جس سے آپ کا واسطہ نہیں ہوتا تو اس سے بچنے کے لیے آپ یہ ٹول استعمال کر سکیں گے۔

ٹوئٹر قابلِ نفرت رویے کی رپورٹنگ کا نظام بھی متعارف کروانے کا سوچ رہا ہے

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ہم بات کریں گے دہلی سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر اور بلاگر ماینک آسٹن صوف کی جو دہلی اور انڈیا کی زندگی کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ ان کی تصاویر کو آپ ان کے بلاگ یا فیس بُک پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاہور کے نواح میں واقع ایک کچی آبادی میں بچیاں سکلو کا کام کر رہی ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کی قومی فضائی کمپنی کے لیے پہلا ایئر بس A320 طیارہ ایران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر اترا۔ جو ایران کے مغرب کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور اہم باب کا آغاز ہے۔