’کینسر کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے‘

ڈاکٹر رؤف بانڈے تصویر کے کاپی رائٹ BILAL BAKSHI
Image caption ان کی یہ تحقیق 'نیچر جینیٹکس' میگزین میں شائع ہوئی ہے

کسی ڈاکٹر کے پاس اگر مثانے کے کینسر کا مریض آتا ہے تو ڈاکٹر پہلے ہی اس کے خون سے ڈی این اے نکال کر اور جینیاتی عوامل کی نشاندہی کر کے یہ پتہ لگا سکتا ہے کہ اس کا کینسر کتنا بڑھ سکتا ہے۔

ایک کشمیری نژاد ڈاکٹر رؤف بانڈے نے اس کا پتہ لگایا ہے کہ ’جینیاتی فیکٹر‘ یا عوامل کی نشاندہی سے کینسر کے خطرے کی شناخت کس طرح کی جائے۔

ان کی یہ تحقیق ’نیچر جینیٹکس‘ میگزین میں شائع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر رؤف امریکہ کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ ان کا تعلق کشمیر کے بيرواہ علاقے سے ہے۔ انھوں نے انڈیا کی معروف یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد وہ مزید تحقیق کے لیے امریکہ چلے گئے۔

میڈیکل سائنس کے ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی اس دریافت سے کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے مدد مل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ڈاکٹر رؤف کینسر کی جینیات پر کام کرتے ہیں

ڈاکٹر رؤف اور ڈاکٹر لدملا پروكنن آلسوسون نے جین اور کینسر کے تعلقات پر کام کیا ہے۔

ڈاکٹر رؤف کہتے ہیں: ’میری تحقیق ٹرانسلیشن جینومکس ہے۔ ہم کینسر کی جینیات پر کام کرتے ہیں۔ ہماری تحقیق کا اختصاص مثانے کا کینسر ہے۔ اس کے علاوہ ہم دوسرے قسم کے کینسر پر بھی ریسرچ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہمارا فوکس موليكيولر ایپی ڈیمولوجی ہے، جسے ہم جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کے تحت دیکھتے ہیں کیونکہ اس سے کینسر میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے اور پھر ہم اس کی بنیاد پر کوئی نشاندہی کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ڈاکٹر رؤف کی تحقیق سے مثانے کے کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے

ڈاکٹر رؤف بتاتے ہیں: ’دراصل خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی کے سبب کینسر ہوتا ہے۔ ہم نے مثانے اور پستان کے کینسر کے مریضوں اور عام لوگوں کا ڈی این اے لے کر ان کا موازنہ کیا۔ ہم نے دیکھا کہ جو ڈی این اے تبدیلیاں کینسر میں ہوتی ہیں، وہ رسک فیکٹر والے لوگوں میں زیادہ ہوتی ہیں اور جن میں رسک فیکٹر کم ہوتا ہے، ان میں تبدیلیاں کم ہوتی ہیں۔‘

ڈاکٹر رؤف کے مطابق: ’اس تحقیق کے بعد جینومک میڈیسن یعنی کینسر کی دوا بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔‘

کشمیر کے سكمس ہسپتال کے نیوکلیئر میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر شوکت حسین خان کہتے ہیں کہ اس دریافت سے کینسر کی دوا بنانے میں بہت حد تک مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں