آسٹریلیا میں ’گھوڑے سانپوں سے زیادہ خطرناک‘

PAUL BURSTON تصویر کے کاپی رائٹ PAUL BURSTON
Image caption سنہ 2000 سے سنہ 2013 کے درمیان کم از کم 74 افراد کی موت گھوڑوں کی وجہ سے ہوئی

آسٹریلیا میں ایک تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں سانپوں اور دیگر زہریلے جانوروں کے مقابلے میں گھوڑے زیادہ انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں۔

یونیورسٹی آف میلبرن کی ڈاکٹر رونیل ویلٹن نے ہسپتال سے اعداد و شمار اور ناگہانی موت سے متعلق معلومات اکٹھی کی ہیں۔

سنہ 2000 سے سنہ 2013 کے درمیان کم از کم 74 افراد کی موت گھوڑوں کی وجہ سے ہوئی۔

تحقیق کے مطابق دوسرے نمبر میں شہد کی مکھیاں اور دیگر ڈنگ مارنے والے کیڑوں سے اموات ہوئی جن کی تعداد 27 رہی جبکہ سانپ کے کاٹنے سے بھی 27 اموات ہوئیں لیکن ان میں کچھ افراد نے ہسپتالوں سے رجوع نہیں کیا۔

اس عرصہ کے دوران مکڑیوں سے کاٹنے سے کسی کی موت واقع نہیں ہوئی۔

یہ تحقیق انٹرنل میڈیسن جرنل میں شائع ہوئی ہے اور ڈاکٹر ویلٹن کا کہنا ہے کہ یہ آسٹریلیا میں زہریلے جانوروں کے بارے میں پائے جانے والے عمومی خیالات کے برعکس ہے۔

ان کی تحقیق کے مرکز ایسے جانور تھے جو ڈنگ مارتے ہیں یا دانتوں سے کاٹتے ہیں لیکن اس کام کے دوران انھیں گھوڑوں سے متعلقہ اموات کے بارے میں معلومات ملیں۔

ڈاکٹر ویلٹن نے بی بی سی کو بتایا: آسٹریلیا زہریلیوں چیزوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن حیران کن طور پر سب سے زیادہ افراد کو ہسپتالوں میں علاج کے لیے آتے ہیں وہ کیڑوں کے کاٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ویلٹن کا کہنا تھا کہ تحقیق کے مطابق کیڑوں کے ڈنگ یا کاٹنے سے پیدا ہونے والی الرجی سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں