انعام یافتہ کبوتروں کی نیلامی، تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

جنوب مشرقی ترکی کے شہر شانلیعرفا میں کبوتروں سے بھرا ایک پنجرہ پڑا ہے جس کے گرد کئی سٹول رکھی ہوئی ہیں۔ قریب میں حال ہی میں منظور ہونے والے ’سب سے خوبصورت کبوتر کے قومی مقابلے‘ کا پوسٹر لگا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

یہاں کبوتروں کی نیلامی کی جا رہی ہے جس میں کبوتر رکھنے والے اور ان کی افزائشِ نسل کرنے والے مخصوص لوگ موجود ہیں۔ شام کی سرحد کے قریب اس علاقے میں کبوتر رکھنے کا شوق سینکڑوں سالوں سے چلا آرہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

اسماعیل ازبک ان افزائش نسل کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے اوپر والی منزل پر تقریباً 200 کبوتر رکھے ہوئے ہیں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے اور الارم لگائے ہوئے ہیں تاکہ کبوتروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

اسماعیل ازبک نے ان قیمتی کبوتروں کے شاعرانہ نام رکھے ہیں۔ چھوٹی گھنٹیاں ان کے پیروں میں باندھی ہوئی ہیں اور ان میں سے بعض کے پروں میں تو چاندی کے زیورات بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

خطے میں بد امنی، کردوں اور حکومتی افواج کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے باوجود ان پرندوں کی انتہائی زیادہ قیمتیں لگتی ہیں۔

اسماعیل ازبک کے پسندیدہ کبوتروں میں سے ایک کی قیمت 1500 ترک لیرا یعنی 320 پاؤنڈ ہے۔

نیلامی کرنے والے امام دلداز نے ایک مرتبہ کبوتروں کی ایک جوڑی 35000 ترک لیرا (7500) پاؤنڈز میں فروخت کیے تھے۔

دلداز کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شوق ہے، ایسا مشغلہ ہے جو آپ نہیں چھوڑ سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات پر مشہور ہوں کہ میں نے اپنا فریج اور اپنی بیوی کی سونے کی چوڑیاں کبوتر خریدنے کے لیے فورخت کر دی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

تقریباً 30 میل دور شام میں خانہ جنگی کے باعث کئی خاص پرندے ترکی کی جانب آ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سپلائی بڑھ گئی اور قیمتیں نیچے آ گئیں، لیکن جیسے ہی یہ تنازع مزید بڑھ گیا تو قیمتیں ایک مرتبہ پھر مزید بڑھ گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters
تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

نیلامی کے ختم ہونے پر دلداز نے 13000 لیرا مالیت کے کبوتر فروخت کر لیے تھے جس میں ان کی کمیشن 10 فیصد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umit Bektas / Reuters

اسی بارے میں