عمر کے ساتھ لڑکیوں میں باصلاحیت ہونے کے یقین کی کمی

تحقیق تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption زیادہ ذہین کون: بچے یا بچیاں؟

امریکی محقیقین کے مطابق چھ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بچیاں لڑکوں کے مقابلے میں خود کو قابلیت اور صلاحیت میں کم سمجھتی ہیں۔

ان کے مطابق تحقیق کے مایوس کن نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان بچیوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے اور اس میں 400 بچے شامل تھے۔ محقیقین کا تعلق امریکہ کی نامور جامعات سے ہے جن میں پرنسٹن یونیورسٹی، نیو یارک یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف الینوائے شامل ہیں۔

اس کے مطابق پانچ سال کی عمر تک بچے اور بچیاں اپنے صنف کے لوگوں کو زیادہ ذہین سمجھتے تھے لیکن صرف ایک سال کے بعد ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق میڈیا، دوسرے اساتذہ اور والدین کے رویے کے سبب بچوں کے خیالات میں تبدیلی آتی ہے۔

اس تحقیق کے ایک تجربے میں پانچ، چھ اور سات سال کے بچے اور بچیوں کو ایک کہانی سنائی گئی جس کا مرکزی کردار بہت ذہین تھا لیکن اس کردار کی صنف واضح نہیں کی گئی۔

اس کے بعد ان بچوں کو دو مردوں اور دو خواتین کی تصاویر دکھائی گئیں اور پوچھا کہ ان میں سے کون اس کہانی کا مرکزی کردار تھا۔

پانچ سال کے عمر والے بچوں نے 75 فیصد دفع کسی مرد کو چنا جبکہ اسی تناسب سی بچیوں نے عورت کو۔

چھ سال کے بچوں میں یہ تناسب وہی رہا لیکن چھ سال کی بچیوں نے بھی خواتین کے مقابلے میں زیادہ مردوں کو ذہین سمجھ کر چنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ’کم عمری میں بچوں کو ایسا تاثر ملتا ہے کہ ذہانت ایک مردانہ خصوصیت ہے۔‘

تحقیقی ٹیم میں شامل پروفیسر آندرئی سمپین نے کہا: 'اس تحقیقی کے مشاہدات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کم عمر کے بچوں کو بڑے ہوتے ہوئے ایسا تاثر ملتا ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ ذہانت ایک مردانہ خصوصیت ہے۔ یہ بہت ہی مایوس کن بات ہے کہ اتنی چھوٹی عمر سے بچیاں خود کو کم قابل سمجھتی ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'اس عمر میں بچے اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے لیکن وہ یہ ضرور سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ کونسا مضمون پڑھنا پسند کرتے ہیں یا کونسی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں۔اور اس طرح کے خیالات ان کے مستقبل کے فیصلوں کو دشوار کر دیتے ہیں۔'

ٹیم کی ایک اور رکن ڈاکٹر لن بین نے کہا کہ وہ والدین اور اساتذہ کو یہ پیغام دینگے کہ وہ بچوں کو محنت پر یقین دلایئں۔

انھوں نے کہا: 'محنت کرنا اور اس پر یقین رکھنا کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔ ہماری تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچیوں کو اگر محنت کرنے کا پیغام دیا جائے تو وہ کوئی کھیل کھیلنے میں لڑکوں جتنی ہی محنت کرتی ہیں۔'

اسی بارے میں