’گردہ نکالیں گے تین لاکھ روپے دیں گے‘

گردہ

عالمی سطح پر ایسے مریض جن کو گردے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو ہسپتالوں میں سالوں سال انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے لوگ غیر قانونی طریقوں سے اعضا حاصل کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے محکمہ صحت کے مطابق اعضا کے ٹرانسپلانٹس کے لیے پاکستان سرفہرست ہے۔

اکتوبر 2016 میں پولیس نے راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں ایک پلازے پر چھاپا مارا جہاں 24 خوفزدہ افراد قید تھے۔ ان کو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر وہاں لایا گیا تھا۔ یہ افراد جب وہاں پہنچے تو ان کو قید کر کے بتایا گیا کہ ان کا ایک ایک گردہ نکالا جائے گا۔ ان افراد میں ایک سعدی احمد بھی تھے جن کو اسی دن بچایا گیا جس دن انھیں ان کی مرضی کے خلاف آپریشن کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ سعدی احمد نے اپنی کہانی بیان کی۔

’ہم محنت مزدوری کرتے ہیں۔ فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں دیہاڑی جو مل جاتی ہے، وہ کر لیتے ہیں۔ میں لاہور کام کے لیے گیا تھا اور وہاں ایک ایجنٹ ملا۔ وہ بولا کہ ہمارا پلازے ہیں اور راولپنڈی، اسلام آباد میں کاروبار ہے ادھر آ جائیں وہاں چوکیداری کا کام کر لینا۔ میں نے بولا کام تو اچھا نہیں ہے سفر بہت ہے اور بچے پریشان ہوں گے لیکن خیر ہے۔ اس نے کہا یہ کاغذات لے کر لاہور کچہری آ جانا۔ میں نے کہا کام کرنے کے لیے جانا ہے اس سے کچہری کا کیا تعلق ہے۔ وہ بولا کہ ادھر پھر پریشانی ہوتی ہے۔‘

’پھر لاہور میں تصویریں لے کر گیا۔ وہاں ہماری وڈیو بھی بنائی گئی اور کاغذات بھی۔ مجھے کہنے لگے کے اگر پولیس والوں نے کچھ پوچھا یا جج صاحب پوچھیں گے تو کہنا پاسپورٹ بنا رہے ہیں۔ پھر آپ کو پریشانی نہیں ہو گی۔ اس کے بعد گاڑی میں بٹھا دیا۔ ایک میں تھا ایک آدمی ہمارے ساتھ اور بھی تھا۔ جب گاڑی میں بیٹھے تو اس نے پوچھا موبائل ہے؟ میں نے کہا ہاں ہے پھر اس نے پوچھا آئی ڈی کارڈ ہے؟ میں نے کہاں ہاں وہ بھی ہے۔ اس نے مجھ سے دونوں چیزیں لے لیں۔‘

ان لوگوں کے تفصیلی انتظامات میں گردہ نکالنے کے ساتھ جعلی شناخت بنانا بھی شامل تھا۔ سعدی نے مجھے بتایا کہ انھیں دھوکے سے پھنسایا گیا۔ جب انہیں گاڑی میں بٹھا کر راولپنڈی پہنچایا تو یہ راز کھلا کہ پہرہ دار کی نوکری تو تھی ہی نہیں۔ جلد ہی ان کو خوفناک حقیقت سمجھ میں آئی۔

'پلازے کا تو معلوم نہیں کیونکہ ہم نئے ہیں۔ جب پلازے میں لے گئے تو ادھر سیڑھیاں اوپر چڑھتی تھیں، جنگلا لگا ہوا تھا۔ وہاں کمرے تھے اور دو تین بندے تھے۔ میں نے کہا کہ کام کے لیے لائے ہیں تو پریشانی کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کام نہیں بتاتے اور دو تین اور بندے اور بھی تھے اور وہ جدا ہو گئے ہیں اور یہ نہیں پتا کہ کدھر گئے ہیں۔‘

’ایک خاتون آئیں اور انھوں نے کہا چپ بیٹھے رہو اور جب فقیر حسین (ایجنٹ) آئے گا وہ کام بتائے گا مجھ سے بات مت کرو۔ دس منٹ بعد فقیر حسین آیا اور اس نے کہا تیار ہو جاؤ ٹیسٹ کے لیے جانا ہے۔ میں نے کہا کس چیز کا ٹیسٹ اس کے بعد اس نے مجھے تفصیل سے بتایا کہ بیٹا بات یہ ہے کہ آپ کا مستقبل بن جائے گا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے گردہ نکالیں گے تین لاکھ روپے دیں گے اس کے بعد گھر چلے جاؤ گے۔ میں نے کہا میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میں غریب بندہ ہوں چھوٹے بچے ہیں اور کیا گارنٹی ہے کہ میں زندہ بچوں گا بھی یا نہیں۔ میں نے شور مچایا دھکم دھکا بھی ہوا۔ اس نے جب مجھے دھمکیاں دیں تو میں چپ کر گیا۔ میں غریب آدمی ہوں کیا کر سکتا تھا۔ روات تھانے والوں کو خبر پہنچی تو انھوں نے چھاپے مارے۔‘

اکتوبر میں پولیس نے چھاپا مار کر ان 24 افراد کو چھڑوایا۔ تفتیشی پولیس افسر یاسر محمود نے بی بی سی کو تفصیلات بتائیں۔

’بہت سے لوگوں کو قید کر کے رکھا ہوا تھا اور تالا لگایا ہوا تھا۔ کسی کو ڈیڑھ مہینہ ہوا تھا کسی کو ایک ہفتہ۔ جب ضرورت پڑتی تھی تو نکال کے کڈنی سینٹر منتقل کر دیتے تھے۔ ان کے ٹیسٹ بھی وہیں پر ہوتے تھے۔ ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ سہانے خواب دکھا کر انہیں یہاں لایا جاتا تھا۔ یہ افراد مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور جن ان کو یہاں لایا جاتا تھا تو ان کے فون بھی لے لیے جاتے تھے۔ ایجنٹ لالچ دے کر یہاں لاتے تھے۔ ان لوگوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ ان تک پہنچے تو وہ کس حال میں تھے تو انھوں نے بتایا 'وہ بری حالت میں تھے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انھوں کہ اگر پولیس وہاں نہ پہنچتی تو ان کے گردے نکال لیے جاتے اور مختلف قیمت دے کر گھر بھیج دیتے۔ کسی کو دو لاکھ کسی کو ایک لاکھ اور پھر واپس پنجاب بھیج دیتے۔‘

راولپنڈی میں گردوں کے ہسپتال کے تین ملازم بھی اس جرم میں ملوث پائے گئے ہیں اور ان کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔ لیکن یہ تینوں اور ہسپتال اس کاروبار میں ملوث ہونے کو مسترد کرتے ہیں۔ اگرچہ اب یہ کاروبار کرنے والا گروہ تو ختم ہو چکا ہے لیکن ایک اور شخص ظفر شہاب ان کا نشانہ بن چکا ہے۔

ظفر شہاب نے بتایا کے پولیس کے چھاپے سے چند ماہ قبل ان کا گردہ نکال لیا گیا تھا جس کے باعث ان کی صحت کافی خراب ہو گئی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کچھ یاد ہے کہ ہسپتال میں آپ کو کتنے عرصے کے لیے رکھا تھا؟‘

انھوں نے کہا 'تین دنوں کے لیے رکھا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ دوائیاں دیں گے، خون کی بوتلیں ہوں گی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں مجھے چکر آ رہے تھے اور میں بے ہوش ہو گیا تھا۔ ایک دن بعد مجھے ہوش آیا۔‘

کیا ان کو معلوم تھا کہ گردے نکالے جائیں گے کے جواب میں ظفر نے کہا ’نہیں مجھے بالکل اس کا علم نہیں تھا۔ گھر پہنچنے کے بعد صحت اتنی بری طرح متاثر ہوئی کہ کوئی کام نہیں کر پا رہا تھا۔ پانچ کلو وزن بھی نہیں اٹھایا جاتا تھا اور صحت خراب ہونے کی وجہ سے ایک اور آپریشن کروانا پڑا۔‘

انسانی اعضا کی پیوندکاری کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مرزا ظفر جنہوں نے راولپنڈی میں اس جرم کی نشاندہی کی تھی نے بتایا کہ ہر ماہ کوئی ایک سو غیر قانونی ٹرانسپلانٹس کیے جا رہے ہیں۔

’یہ کام ہے تو غیر قانونی لیکن اس میں بہت پیسہ ہے۔ چور بازار میں اس قسم کے آپریشنز فی مریض پچاس سے ساٹھ لاکھ تک میں کیے جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ جن کے گردے زبردستی نکالے جاتے ہیں ان کو صرف معمولی سی رقم دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنا منہ بند رکھیں۔‘

ڈاکٹر ظفر کا کہنا تھا کہ 'بد قسمتی سے بچھلے کئی سالوں سے اعضا کی غیر قانونی تجارت پاکستان میں شروع ہو گئی ہے۔ لاہور میں اور راولپنڈی میں بہت سارے خفیہ ہسپتالوں میں غیر قانونی طور پر اعضا کی پیوند کاری کی جار ہی ہے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔'

اجنبی لوگوں کو اپنا گردہ بیچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ مالی مسائل کا شکار لوگ پیسہ لے کر گردہ بیچ دیتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کو دنیا کا سب سے بڑا گردہ بازار مانا جاتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں گردوں کی تجارتی بنیاد پر عطیے کو غیر قانونی قراد دیا گیا تھا لیکن یہ دھندا اب بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلب اور رسد میں فرق کو پورا کرنے کے لیے غیر قانونی دھندا کرنے والے میدان میں آ گئے ہیں۔ لیکن نشانہ بننے والے متاثرین کا یہ سوال ہے کہ کیا ان کی بہتر زندگی کی امیدیں کبھی پوری ہو سکیں گی؟