امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ٹرمپ کی سفری پابندیوں کی مخالف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر بننے سے قبل ٹرمپ نے ملک کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی تھی

امریکہ میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی 97 کمپنیوں نے ایک قانونی دستاویز جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کے حکم نامے سے نہ صرف ان کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ یہ پابندی ان کے لیے نقصان کا باعث بھی ہے۔

ان کمپنیوں میں ایپل، فیس بک اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

’سفری پابندی بحال ہوئی تو پھر افراتفری پھیل جائے گی‘

حکومتی اپیل مسترد، سفری پابندیوں کی معطلی برقرار

یہ قانونی دستاویز کسی مقدمے میں فریق نہ ہونے کے باوجود اس سے متاثر ہونے والے افراد یا اداروں کو اس معاملے میں اپنی رائے دینے کا حق دیتی ہے۔

یہ دستاویز اتوار کو واشنگٹن میں جمع کروائی گئی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 'وفاقی حکومت یقیناً ملک کی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے امیگریشن نظام میں مناسب اور ضروری تبدیلیاں کر سکتی ہے لیکن ایک وسیع تر پابندی جس میں بغیر نوٹس اضافے کا بھی امکان ہے ملک کو زیادہ محفوظ بنانے کے عزم سے متصادم ہے بلکہ یہ تو امریکی مفادات کے خلاف ہے۔'

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے نہ صرف امریکہ کے پناہ گزین پروگرام کو 120 دن کے ذریعے روک دیا تھا بلکہ شامی پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر تاحکمِ ثانی اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی تھی۔

فی الحال اس پابندی کو امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل کے ایک وفاقی جج نے معطل کر دیا ہے اور اپیل کورٹ نے اس معطلی کے خلاف حکومتی درخواست بھی رد کر دی ہے۔

اس معطلی کے بعد معاملے کا فیصلہ ہونے تک عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے ایسے شہری جو امریکی ویزے رکھتے ہیں، امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے صدارتی حکم کی معطلی کا نتیجہ قومی سلامتی کو درپیش خطرہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں