’ڈائنوسار بچے دینے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے‘

ڈائنوسیفالوسارس تصویر کے کاپی رائٹ DINGHUA YANG
Image caption ڈائنوسیفالوسارس اپنی ساخت کے لحاظ سے بحری زندگی میں پوری طرح رچا بسا تھا

سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ اس چیز کا ثبوت ملا ہے کہ جانوروں کا گروہ جس میں ڈائنوسارز اور مگرمچھ بھی شامل ہیں ماضی میں بچے بھی دیتے تھے۔

جانوروں کے یہ گروپ 'آرکوسارومورفا' کہے جاتے ہیں اور آج کے دور میں اس میں شامل تمام جانور انڈے دیتے ہیں۔

٭ ڈائنوسار کی جلد پر رنگین نمونے دریافت

٭ امریکہ نے ڈائنوسار کے باقیات منگولیا کو لوٹا دیے

اس پر سائنسدانوں کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیا ان کی حیاتیاتی بناوٹ میں ہی یہ بات شامل ہے کہ یہ بچے نہیں دے سکتے۔

لیکن لمبی گردن والے ساڑھے 24 کروڑ سال پرانے چین کے بحری ریپٹائل کے محجر باقیات کے معائنے پر پتہ چلا کہ اس جانور کے پیٹ میں ایک بچہ پل رہا تھا۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے 'نیچر کمیونیکیشن' میں شائع ہوئی ہے اور اس کے پہلے مصنف جون لیو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جاندار تین سے چار میٹر لمبا ہو سکتا ہے اور اس کی گردن تقریبا پونے دو میٹر لمبی تھی۔

ان کے مطابق اس کے پیٹ میں نطفہ تقریبا ًنصف میٹر لمبا رہا ہوگا جو کہ دائنوسیفلوسارس کے فوسل کی پسلیوں کے درمیان تھا۔

یہ محجر جنوبی چین کے صوبے یونن کی لاؤپنگ کاؤنٹی میں سنہ 2008 میں دریافت ہوا تھا۔

تحقیق کرنے والوں نے اس امکان پر بھی غور کیا کہ پسلیوں کے درمیان پایا جانے والا چھوٹا جانور اس بڑے جانور کی آخری غذا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا چہرہ آگے کی جانب ہے جبکہ نگلے ہوئے جانور کا چہرہ عموما پیچھے کی جانب ہوتا ہے کیونکہ شکاری جانور پہلے اپنے شکار کا سر کھاتے ہیں تاکہ گلے سے نیچے اتارنے میں آسانی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ JUN LIU
Image caption محجر باقیات سے پتہ چلتا ہے کہ پسلیوں میں پایا جانے والا جانور شکار نہیں

براہ راست بچہ پیدا کرنے کا دوسرا ثبوت یہ تھا کہ بڑے جانور کے پیٹ میں جو چھوٹے جانور کے باقیات ملے ہیں وہ واضح طور پر اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس تحقیق کے شریک مصنف اور برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر مائک بینٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ نیا فوسل اس لیے اہم ہے کہ آرکوسارومورفا زمین پر پائے جانے والے ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کے تین بڑے گروپس میں سے ایک ہے جن میں سے ہر ایک گروپ میں دس ہزار اقسام ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب جبکہ پتہ چل چکاہے کہ حیاتیاتی طور پر براہ راست بچے کو جنم دینے کا راستہ اس گروپ میں مسدود نہیں اس لیے اب حیاتیات داں محجرات کا 'بغور مطالعہ کریں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ JUN LIU
Image caption اس محجر نمونے کی جنوبی چین کے یونن صوبے کے لاؤپنگ کاؤنٹی میں سنہ 2008 میں دریافت ہوئی تھی

انھوں نے کہا کہ اب مگرمچھ کے خاندان کے ایک بحری جاندار پر سائنسدانوں کی توجہ مرکوز رہے گی کیونکہ ان کے یہاں عمل تولید کے بارے میں بہت زیادہ علم نہیں ہے۔

پروفیسر لیو کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے آرکوسارومورفز میں عمل تولید کے شواہد پانچ کروڑ سال قبل چلے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈائنوسیفالوسارس میں عمل تولید کے طریقے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کے جنس کا تعین کس طرح ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں