خطرناک جرثومے کے خلاف اہم کامیابی

پروٹین تصویر کے کاپی رائٹ UNIVERSITY OF WESTERN AUSTRALIA
Image caption EptA پروٹین کا تھری ڈی ماڈل

آسٹریلوی سائنس دانوں نے اس پروٹین کا نقشہ تیار کر لیا ہے جو ایک خطرناک جرثومے کو اینٹی بایوٹک ادویات کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے۔

اس تحقیق کی مدد سے اینٹی بایوٹک ادویات کے خلاف مدافعت رکھنے والے جراثیم کے خلاف نئی ادویات بنائی جا سکیں گی۔

EptA نامی اس پروٹین کی بدولت یہ جراثیم کولسٹین اینٹی بایوٹک کے اثر سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ دوا اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب دوسری تمام اینٹی بایوٹکس ناکام ہو جائیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 21ویں صدی میں انسان کو لاحق سب سے بڑے خطرات میں ایک جراثیم کے خلاف اینٹی بایوٹکس کی ناکامی ہے۔

مرکزی تحقیق کار پروفیسر ایلس ورائیلنک کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق سے ایسی ادویات بنانے میں مدد ملے گی جو جراثیم کو پروٹین کی مدد سے چھپا دینے کا عمل روک دیں۔

'ہمارا خیال ہے کہ یہ پروٹین کسی دروازے کے تالے کی مانند ہے جس کی ایک مخصوص شکل ہے۔ اس کے تھری ڈی نقشے کی مدد سے ہم اس کی شکل و صورت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔'

یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت کے باعث سات لاکھ افراد موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر اس خطرے پر جلد قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ افراد سالانہ ہو سکتی ہے۔

اس وقت تمام اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت کے حامل جراثیم کے خلاف آخری حربہ کولسٹین ہے، لیکن دنیا کے کئی حصوں میں ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جن پر کولسٹین بھی اثر نہیں کرتی۔

سائنس دانوں کو خطرہ ہے کہ اگر کولسٹین کے خلاف مدافعت بھی عام ہو گئی تو پھر ہر طرف ناقابلِ علاج وبائیں پھوٹ پڑیں گی۔

ڈاکٹر ورائیلنک نے کہا کہ 'یہ پروٹین بیکٹیریا کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ جسم کے مدافعتی نظام اور اینٹی بایوٹکس سے چھپ جائیں۔ اگر ہم انھیں ایسا کرنے سے روک دیں تو ہم بیکٹیریا کو ظاہر کر سکتے ہیں۔'

ان کے خیال میں ایسی ادویات بنانے میں کئی سال لگیں گے، تاہم یہ اس سلسلے میں پہلا اہم قدم ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں