’زکام اور فلو سے بچنے کے لیے وٹامن ڈی استعمال کریں‘

وٹامن ڈی تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ سے برطانیہ میں ہر سال 30 لاکھ لوگوں کو زکام اور فلو سے بچایا جا سکتا ہے۔

وٹامن ڈی صحت مند ہڈیوں کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ مدافعتی نظام کی نشو و نما میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جانا چاہیے۔

٭ ’ہر کسی کو وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ استعمال کرنے چاہییں‘

تاہم پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق انفیکشن کے خلاف وٹامن ڈی کے موثر ہونے کے اعداد و شمار فیصلہ کن نہیں ہیں، البتہ اس نے بھی سپلیمنٹ کی تجویز دی ہے۔

مدافعتی نظام وٹامن ڈی کی مدد سے بیکٹیریا اور وائرس کا خاتمہ کرتا ہے۔

وٹامن ڈی جلد کے اندر دھوپ کے باعث بنتا ہے، تاہم سردیوں کے دنوں میں ناکافی دھوپ کی وجہ سے اس کی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔

وٹامن ڈی انفیکشن پر قابو پانے میں کتنا موثر ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے سائنس دانوں نے 11321 لوگوں پر کیے گئے 25 مختلف تجرباتی مطالعہ جات کا جائزہ لیا۔

کوین میرن یونیورسٹی آف لنڈن کی ٹیم نے نظامِ تنفس کے انفیکشنز پر تحقیق کی، جن میں معمولی زکام سے لے کر نمونیا جیسے انفیکشن شامل ہیں۔

معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ استعمال کرنے والے ہر 33 شخص میں سے ایک کو انفیکشن سے نجات مل سکتی ہے۔

یہ نتائج فلو کی ویکسین سے بہتر ہیں، جو ہر 40 مریضوں میں سے ایک پر کارگر ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ روزانہ یا ہفتہ وارانہ وٹامن ڈی استعمال کرنے کے اضافی فوائد بھی ہیں۔

تحقیق کار پروفیسر ایڈرین مارٹینو نے کہا: 'برطانیہ کی کل آبادی ساڑھے چھ کروڑ ہے، جن میں سے 70 فیصد کو ہر سال نظامِ تنفس کا کم از کم ایک انفیکشن لاحق ہوتا ہے۔ روزانہ وٹامن ڈی کی خوراک کا مطلب ہے کہ ساڑھے 32 لاکھ لوگ سالانہ کم از کم ایک انفیکشن سے بچے رہیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption وٹامن ڈی قدرتی طور پر جسم میں بنتا ہے، لیکن اس کے لیے کافی دھوپ کی ضرورت پڑتی ہے

پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے پہلے ہی عوام کو تجویز دے رکھی ہے کہ وہ سردیوں میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن ڈی استعمال کریں۔

تاہم اس تحقیق پر خاصا بحث مباحثہ جاری ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے پروفیسر لوئس لیوی کہتے ہیں: 'وٹامن ڈی اور انفیکشن کے تعلق کے بارے میں شواہد کا ڈیٹا بےربط اور ناکافی ہے کہ اسے لوگوں میں نظامِ تنفس کے انفیکشن کا خطرہ کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔'

تاہم یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر مارٹن ہیویسن کہتے ہیں کہ یہ دریافت 'متاثر کن' ہے۔ 'میں اس تحقیق کے مصنفین سے متفق ہوں کہ یہ تحقیق ہڈیوں کی نشو و نما کے علاوہ دوسری چیزوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے اس تحقیق کے لیے رقوم فراہم کی تھیں۔ اس کا کہنا ہے یہ دریافت اس قابل ہے کہ اس پر 'مزید غور کیا جائے۔'

اسی بارے میں