کیا نیوزی لینڈ کے نیچے دنیا کا آٹھواں براعظم ہے؟

  • 17 فروری 2017
نیوزی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماؤنٹ کوک: نیوزی لینڈ کی سب سے بلند چوٹی ہے

آپ کے خیال میں آپ ساتوں براعظموں کے بارے میں جانتے ہیں؟ ایک بار پھر سوچ لیں کیونکہ اب اس فہرست میں ایک اور براعظم بھی شامل ہونے والا ہے۔

زیلینڈیا کو ہیلو کہیے جو کہ ایک بہت بڑا زمین کا ٹکڑا ہے اور جو بحرالکاہل کے جنوب مغرب میں پانیوں کے نیچے موجود ہے۔

لیکن یہ شاید مکمل طور پر آپ کے لیے نیا نہیں ہے۔ شاید آپ نے بلند پہاڑیوں کے بارے میں سنا ہو جو زیادہ تو پانی کے نیچے ہیں لیکن تھوڑی سی سطح سمندر سے اوپر موجود ہیں جس کو نیوزی لینڈ کہا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اب براعظم کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے کامیاب ہو گیا ہے۔

ایک امریکی جریدے جیولوجیکل سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

زیلینڈیا کا رقبہ 50 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو کہ آسٹریلیا کے دو تہائی رقبے کے برابر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GNS

اس میں94 فیصد کا علاقہ پانی میں اور صرف کچھ ہی جزیرے اور تین زمین کے ٹکڑے سطح پر نظر آتے ہیں جو کہ نیوزی لینڈ کے شمال اور جنوب کے جزیروں اور نیو کیلیڈونیا پر مشتمل ہیں۔

آپ شاید یہ بھی سوچیں کہ پانی کے اوپر ہونا جزیرے کی حیثیت دیے جانے کے لیے ایک مشکل امر ہو گا۔ تاہم محقیقن نے اس کے لیے جو اصول وضع کیے ہیں وہ کچھ مختلف اور نئے ہیں۔

  • اردگرد کے علاقے سے بلندی پر۔
  • مختلف ارضیاتی ساخت۔
  • اچھی طرح بیان کیا گیا علاقہ۔
  • عام سمندر کی تہہ سے موٹی تہہ۔

اس آرٹیکل کے مرکزی لکھاری نِک مورٹیمر کا کہنا ہے کہ سائنس دان اس براعظم پر تحقیق کے لیے دو دہائیوں تک کام کرتے رہے ہیں۔

لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا کتابیں لکھنے والے اب ایک بار پھر پریشان نہیں ہوں گے کیونکہ کچھ ہی برس پہلے پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

حقیقت میں رسمی طور پر کوئی بھی ایسا سائنسی ادارہ نہیں ہے جو براعظموں کو شناخت دے سکے۔ اس لیے یہ مستقبل کی تحقیق سے ہی ممکن ہو سکے گا کہ شاید ایک دن ہم سات کے بجائے آٹھ براعظموں کے بارے میں پڑھ رہے ہوں۔

اسی بارے میں