’ملک سے باہر جاتے وقت اپنا موبائل اور لیپ ٹاپ گھر چھوڑ کر جائیں‘

سمارٹ فون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'اگلی بار جب آپ سرحد پار کرنے کا منصوبے بنائیں تو اپنا فون گھر چھوڑ کر جائیں۔'

تعجب کا باعث بننے والی یہ نصیحت ایک بلاگ پوسٹ میں دی گئی ہے جسے اب بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

اس نصیحت کے موجد سافٹ ویئر انجینئر کیونسی لارسن ہیں جنھوں نے اس سے پہلے ذاتی ڈیٹا کو محفوظ بنانے کی اہمیت کے بارے میں لکھا تھا۔

کیونسی لارسن اس بات پر فکر مند ہیں کہ جب جب آپ سرحد عبور کرتے ہیں آپ کے ذاتی ڈیٹا کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

لارسن کے خدشات اس وقت بڑھے جب ایک ناسا انجینئر سڈ بکاناور گذشتہ ماہ امریکہ سے چلی گئے۔ چلی سے واپسی پر ہوسٹن پہنچنے پر انھیں پکڑ لیا گیا اور ان کے بقول ان پر اپنے سمارٹ فون کا پاس ورڈ بتانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا باوجود اس کے کہ انھیں یہ سمارٹ فون ناسا کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔

سمارٹ فونز کے عادی افراد کے لیے فرشی ٹریفک سگنل

آخر کار سڈ بکاناور نے اپنا فون اور پاس ورڈ حکام کو دیا جس کے بعد ان کا فون واپس آدھے گھنٹے بعد واپس کیا گیا اور انھیں جانے کی اجازت دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لارسن اس مثال کو بہت خطرناک تصور کرتے ہیں۔ 'جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اب ہر کسی کو کسٹمز کی جانب جانے والے راستے سے پکڑ کر ان کے ڈیجیٹل زندگی کے مکمل مندرجات کے حوالے کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات بھی معلوم ہے کہ ہوم لینڈ کے نئے سکیورٹی سیکریٹری جان کیلے نے امریکی ویزے کے خواہشمند افراد سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پاس ورڈز فراہم کرنے کا کہا ہے۔

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کانگریس مین نے جمعرات کو ٹویٹر پر بہت فخر سے اس بات کا اعلان کیا کہ انھوں نے امریکی ویزے کے خواہشمند افراد سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں جاننے کے لیے بل پیش کیا ہے۔

کیونسی لارسن نے پیش گوئی کی ہے کہ مسافروں کے فونز پر سے کنٹینٹس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی پالیسی نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں بہت جلد نافذ کر دی جائے گی۔

کیونسی لارسن کی نصیحت ہے کہ آپ ملک سے باہر جاتے وقت اپنا موبائل اور لیپ ٹاپ گھر چھوڑ کر جائیں۔

اسی بارے میں