24 گھنٹوں میں 27 بار دل کا دورہ لیکن پھر بھی زندہ

تصویر کے کاپی رائٹ Wood hall
Image caption برطانوی شہری وؤڈ ہال کو 24 گھنٹے کے اندر تقریبا 27 بار ہارٹ اٹیک ہوا لیکن ڈاکٹروں سمجھ بوجھ اور وقت پر علاج ہونے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی

کئی بار ایسے معجزات بھی ہوتے ہیں کہ ان پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی ایک معجزہ برطانیہ میں دیکھنے کو ملا جس پر شاید آپ کو حیرت ہو۔

برطانوی شہری رے وؤڈ ہال کو 24 گھنٹے کے اندر تقریبا 27 بار ہارٹ اٹیک ہوا لیکن ڈاکٹروں کی مستعدی اور وقت پر علاج ہونے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔

وؤریسٹرشائر میں رہنے والے 54 برس کے وؤڈ ہال ’واكنگ فٹبال‘ کھیل رہے تھے۔ برطانیہ میں بڑھتی عمر کے لوگوں کے لیے سست رفتار انداز میں ایک کھیل کھیلا جاتا ہے جسے واکنگ فٹبال کہتے ہیں۔

کھیل کے دوران ہی اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ وہیں گر گئے۔ ان کے ساتھیوں نے نیشنل ہیلتھ سروس کی ہیلپ لائن میں اس کی اطلاع دی۔

انہیں وؤریسٹرشائر رائل ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کو فوری طور پر ان کی آرٹیری میں دو سٹینٹ لگانے پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WORCESTERSHIRE ROYAL HOSPITAL
Image caption ہسپتال کے جن ڈاکٹروں نے رے وؤڈ ہال کو بچایا اس ٹیم کے ساتھ

لیکن مشکل تو اس کے بعد شروع ہوئی۔ وؤڈ ہال کو یکے بعد دیگرے وہاں 26 بار دل کا دورہ پڑا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کہانی دنیا کو بتانے کے لیے با حیات ہیں۔

بی بی سی کے پروگرام ’فائیو لائیو‘ سے بات چیت کے دوران وؤڈ هال نے بتایا کہ اس دوران انہیں لگا تھا کہ وہ گہری نیند میں سو گئے تھے۔

وؤڈهال نے کہا: ’جب مجھے ہوش آیا تو میں نے ہسپتال کے سٹاف سے نیند میں جانے کے لیے معافی مانگی تو انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ سوئے نہیں تھے، آپ تو مر چکے تھے، ہم نے آپ کو جانے نہیں دیا۔‘

تو انھیں کس طرح بچایا گیا؟ اس کے بارے میں وؤڈهال کہتے ہیں: ’ایک نرس نے مجھ سے اس بات کے لیے معذرت کی کہ انھوں نے میرے سینے کو متعدد بار زور زور سے دبایا تھا۔`

جب وؤڈ ہال کی حالت زیادہ بگڑنے لگی تو ہسپتال نے چھ ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم کو ان کی ڈیوٹی پر تعینات کیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ وؤڈهال کی زندگی کو بچایا جا سکا تاہم انہیں پوری طرح سے صحت یاب ہونے میں ابھی چھ ماہ کا وقت لگے گا۔ یہ واقعہ دسمبر میں پیش آیا تھا۔

وؤریسٹرشائر کے رائل ہسپتال میں کارڈیالوجی کی ٹیم اس کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے۔

لیکن وؤڈهل کے اس واقعے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر فوری طور پر ہارٹ اٹیک کے مریض کو علاج مہیا ہوجائے تو زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں