زہریلے مکڑے کے کاٹنے پر دوا کی بھاری مقدار نے بچے کی جان بچا لی

تصویر کے کاپی رائٹ AUSTRALIAN REPTILE PARK
Image caption فروری اور مارچ ان مکڑوں کی افزائش کے مہینے ہوتے ہیں

آسٹریلیا میں ایک دس سالہ بچے کو دنیا کے سب سے زہریلے مکڑے کے کاٹنے کے بعد زہر شکن دوا کی 12 شیشیاں دینے کے بعد بچا لیا گیا ہے۔

آسٹریلیا میں یہ اب تک کسی متاثرہ شخص کو زہر کش دوا کی دی گئی سب سے زیاہ مقدار ہے۔

پیار کی باتیں مکڑا بھی کرتا ہے

مکڑے اپنے ہم شکل پتلے بناتے ہیں

دس سالہ میتھیو مچل کو صفائی کے دوران اپنے والد کی مدد کرنے کے دوران اس زہریلے مکڑے نے انگلی پر کاٹ لیا تھا۔

مکڑے کے کاٹنے کے بعد انھیں جھٹکے پڑنے لگے، آنکھوں کے پُتلیاں پھیل گئیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔

انھوں نے آسٹریلین ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ ’اس مکڑے نے مجھے جکڑ لیا تھا اس نے میری انگلی کے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ لی تھیں، میں اسے ہٹا ہی نہیں سکا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ دنیا کا سب سے زہریلا اور جان لیو مکڑا ہے

میتھیو کے گھر والوں نے ہسپتال لے جانے سے پہلے اس کی قمیض سے اس کے ہاتھ کو کس کے باندھ دیا تاکہ زہر باقی جسم نہ پھیل سکے۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق میتھو کو زہر شکن دوا کی مقدار اس سے پہلے بچ جانے والے کسی شخص سے تین شیشیاں زیادہ دی گئی۔

اس مکڑے کو پکڑ لیا گیا اور سڈنی کے قریب آسٹریلین رپٹائل پارک کے حوالے کر دیا گیا۔

فروری اور مارچ ان مکڑوں کی افزائش کے مہینے ہوتے ہیں اور اس دوران نر مکڑے ماردہ مکڑیوں کی نسبت پانچ گناہ زیادہ زہریلے اور غصہ ور ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں