خطرناک ترین بیکٹریا کی نئی فہرست تیار

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ڈبلیو ایچ او کے مطابق اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں ہے

عالمی ادارہ صحت نے ایسے بیکٹیریا کی فہرست تیار کی ہے جن پر ادویات کا کوئی اثر نہیں ہو رہا اور وہ انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

اس فہرست میں سب سے اوپر گرام-منفی کے ای. کولی جیسے جراثیم ہیں جو ہسپتال میں داخل کمزور مریضوں کے خون میں جان لیوا انفیکشن یا نمونيا پھیلا سکتے ہیں۔

جرمنی میں ہونے والی جی -20 اجلاس سے پہلے اس فہرست میں بحث کی جائے گی۔

* بیکٹیریا جو خطرناک جراثیم کو کھا جاتا ہے

* آنتوں کے بیکٹریا کینسر کے علاج میں مددگار

اس کا مقصد مشکل علاج والے انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹکس تلاش کرنے کی طرف حکومتوں کی توجہ مرکوز کرنا ہے۔

ماہرین کئی بار انتباہ کر چکے ہیں کہ کچھ بیماریوں کا علاج موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے میں عام انفیکشن بھی جان لیوا ہو جائیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر مریم پال كينی کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور کوئی نئی دوا نہیں دکھائی دے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ علاج کے طریقے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر كينی نے کہا کہ اگر صرف بازار پر ہی سب کچھ چھوڑ دیا گیا تو وقت رہتے نئے اینٹی بائیوٹکس تیار نہیں کیے جا سکیں گے۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں ایسی ہی ادویات تیار کریں گی جنہیں بنانا سستا ہے اور جن میں منافع زیادہ ہے۔ یہ نیچے لٹکتے پھل توڑنے جیسا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی اس فہرست میں ٹی بی کو نہیں رکھا گیا ہے کیونکہ اس کے علاج کی تلاش پہلے ہی ترجیحات میں شامل ہے۔

ماہرین نے موجودہ ادویات کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کو ذہن میں رکھ کر یہ نئی فہرست تیار کی ہے۔ اس میں عالمی شرح اموات، کمیونٹیز میں انفیکشن پھیلنے کی شرح اور صحت کی خدمات پر امراض کے باعث پڑنے والے بوجھ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

فہرست میں سب سے اوپر پر ایک كلیبسيلا نام کا بیکٹیریا بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں طاقت ور اینٹی بائوٹک ’کارباپینیمس‘ کے خلاف بھی مزاحمت کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

حال ہی میں امریکہ میں اس بیکٹریا سے متاثرہ خاتون کا ڈاکٹرز نے 26 موجودہ اینٹی بائیوٹکس سے علاج کی کوشش کی لیکن یہ ٹھیک نہیں ہوا اور جان لیواگ ثابت ہوا۔

اسی بارے میں