سپیس ایکس سیاحوں کو چاند کے گرد چکر لگوائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے 1970 کے بعد سے چاند پر اپنے خلا باز نہیں بھیجے

امریکی نجی راکٹ کمپنی سپیس ایکس نے اعلان کیا ہے کہ دو افراد نے چاند کے گرد چکر لگوانے کے لیے اسے رقم ادا کی ہے۔

سپیس ایکس کے مالک ایلن مسک کا ہنا ہے کہ اس مشن کے لیے 2018 تک منصوبہ بنایا گیا ہے اور سیاحوں نے ایک خطیر رقم پیشگی کے طور پر ادا کر دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سفر سے 45 سال بعد انسان واپس دُور خلا کا سفر کرے گا۔

* ’مجھے خلا میں کھٹکھٹانے کی آواز آئی‘

دو افراد جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جس خلائی جہاز میں سفر کریں گے اس کی تجرباتی پرواز رواں برس کے آخر میں روانہ ہوگی۔

ایلن مسک کا کہنا تھا کہ امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا کے تعاون سے ہی یہ منصوبہ ممکن ہو سکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دو افراد نظام شمسی میں انتہائی تیزی سے اور آگے تک سفر کریں گے جیسا کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کمپنی کے مالک ایلن مسک کا کہنا تھا کہ خطرے کو کم سے کم کرنے کی ہر ممکن ہوشش کریں گے

انھوں نہ ان افراد کی شناح، ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور وہ کوئی ہالی وڈ کے ادکار بھی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان افراد کی جسمانی تربیت اور جانچ اس سال کے آخر میں شروع کر دی جائے گی۔

پہلے مشن کا کوئی نام نہیں ہوگا اور امکان ہے کہ یہ سال 2018 کی دوسری سہہ ماہی میں روانہ ہو گا۔

انھوں نہ واضح کیا کہ یہ اولین سیاح جانتے ہیں کہ اس میں خطرہ بھی ہوگا۔ ’ہم خطرے کو کم سے کم کرنے کی ہر ممکن ہوشش کریں گے لیکن یہ ختم نہیں ہوگا۔‘

اس سفر میں سیاح چاند کے گرد چکر کاٹیں گے اس کی سطح کے قریب جائیں گے تاہم وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔

امریکہ نے 1970 کے بعد سے چاند پر اپنے خلا باز نہیں بھیجے۔

اسی بارے میں