دو ماہ میں سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کی 500 شکایات

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے شکایات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان میں سے بیشتر شکایات کنندگان خواتین ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ برس سائبر کرائم ایکٹ کے تحت 700 درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور ان میں بیشتر سوشل میڈیا کے حوالے سے ہی تھیں اور اس سال ابتدائی دو ماہ میں ہی یہ تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں درج کروائی جانے والی ایسی درخواستوں کی تعداد 120 ہے۔

ایسی ہی ایک درخواست دینے والی خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے سابق منگیتر نے ہی سوشل میڈیا پر ان کی کردار کشی کی کوشش کی اور انھوں نے اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو درخواست دے رکھی ہے۔

ان کے مطابق اس شکایت پر ملزم کے خلاف کارروائی بھی ہوئی ہے لیکن اس سارے واقعے سے وہ جس ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں اس کا مداوا ممکن نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے موصول ہونے والی بیشتر شکایات خواتین کی جانب سے ہی سامنے آ رہی ہیں کیونکہ ایسے واقعات میں زیادہ تر خواتین ہی نشانہ بن رہی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پاس سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے 95 فیصد سے بھی زیادہ سوشل میڈیا کے حوالے سے ہیں اور ان میں سے بیشتر شکایات میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں پر قانون کے مطابق کارروائیاں کی گئی ہیں اور ان میں ملزمان گرفتار بھی ہوئے ہیں لیکن اس طرح کے بیشتر واقعات میں فریقین کے درمیاں صلح ہو جاتی ہے اور کچھ لوگ عدالت میں جانے سے پہلے ہی صلح کر لیتے ہیں اور بعض عدالت میں ہی صلح کا فیصلہ کرتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اور یہاں تک کہ بڑوں میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال میں جوں جوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس سے متعلق شکایات بھی بڑھ رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا کے حوالے سے شکایات کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن متعلقہ ادارے میں اس کا اندراج کم ہی ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر افراد متعلقہ ادارے سے رابطہ کر نہیں پاتے یا پھر کرنا نہیں چاہتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں